خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 474
خطبات ناصر جلد ششم ۴۷۴ خطبہ جمعہ ۱۱؍جون ۱۹۷۶ ء زندگی کی طرح قرآنی تعلیم کا نمونہ بن جائے۔اتباع رسول کے یہی معنے ہیں۔اُسوۂ نبوی کو قبول کرنے اور اس کے مطابق اپنی زندگی ڈھالنے کے یہی معنے ہیں یعنی یہ کہ قرآن کریم کی جو تعلیم ہے اور اس کے جو سینکڑوں احکام ہیں ان پر عمل کر کے ہماری زندگی بھی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ایک مسلمان مومن کی حسین زندگی بن جائے۔اگر قرآن کریم ایک دن میں نازل ہو جا تا اور گو یہ بات خدا تعالیٰ کے لئے ناممکن تو نہ تھی۔وہ ایک دن میں قرآن کریم نازل کر سکتا تھا اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسی عظیم ہستی جو کامل استعدادوں کے ساتھ دنیا کی طرف بھیجی گئی تھی وہ اگر اس کے مطابق ایک دن میں عمل کر کے دکھانے لگ جاتے تو آپ کی اتباع کا یہ پہلو ہمارے لئے ممکن نہ ہوتا۔ہمیں تو آہستہ آہستہ تربیت کا ایک لمبا عرصہ گزارنا پڑتا کیونکہ دوسرے انسان وہ استعدادیں لے کر دنیا کی طرف نہیں آئے جن استعدادوں کے ساتھ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا گیا تھا۔پس حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قریباً ساری زندگی میں قرآن کریم کا نزول ہوا۔آپ کی وہ زندگی جو افضل الرسل کی حیثیت سے ہے یعنی قرآن کریم کو دنیا کی طرف پیش کرنے والی زندگی ہے۔جب قرآن کریم کی وحی آپ پر نازل ہونی شروع ہوئی اس وقت سے لے کر آخر وقت تک نئے احکام نازل ہوتے رہے۔ایسے احکام جو انسانی زندگی کو پالش کرنے والے تھے اس کو چمکانے اور اس میں نیا حسن پیدا کرنے والے تھے۔چنانچہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ استعداد یں جو دنیا کی نگاہ سے چھپی ہوئی تھیں ان کا حسن آہستہ آہستہ ظاہر ہونا شروع ہو گیا اور ہوتا رہا اور یہ خدا تعالیٰ نے ہم پر احسان کیا کہ اس نے کہا تم ساری زندگی کوشش کرتے رہو۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی اور تربیت کروا اپنی بھی اور اپنے نفسوں کی بھی اور ہر معنے میں اپنے اہل کی بھی۔قُوا أَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيكُمْ نَارًا میں حکم کے علاوہ ایک بشارت بھی ہے اور وہ یہ کہ تمہیں اپنی انفرادی اور اجتماعی ہر دو زندگیوں میں اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل ہو جائے گا۔پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم پر بہت بڑا احسان فرمایا ہے کہ آپ نے ہمارے دلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار اور محبت پیدا کر