خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 426 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 426

خطبات ناصر جلد ششم ۴۲۶ خطبه جمعه ۲۳ ۱۷ پریل ۱۹۷۶ء اور صرف اپنی ذات یا اپنے جتھے یا اپنی قوم یا اپنے ملک پر بھروسہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کا زندہ تعلق نہیں ہوتا کہ جس کی طاقت پر وہ بھروسہ کرنے والے ہوں اور پھر انہوں نے جو کام نہیں کیا ہوتا وہ سمجھتے ہیں کہ اس پر بھی ان کی تعریف کی جائے حالانکہ انہوں نے کام نہیں کیا ہوتا لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا آتَوا وَيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُم بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ یہ نہ سمجھو کہ وہ خدا کے عذاب سے محفوظ ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے لیکن وہ گروہ اور وہ جماعت جو اللہ کا نام لے کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کو بلند کرنے کے لئے اور اسلامی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کے لئے اپنی کمزوریوں کے باوجود کھڑی ہو جاتی ہے۔وہ جو کچھ خدا کے حضور پیش کرتے ہیں ان کے اوپر بھی وہ اتراتے نہیں اور فخر نہیں کرتے اور جو کام انہوں نے نہیں کیا ہوتا اس کے متعلق تو شیخی مارنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یہ لوگ خدا تعالیٰ کے قہر کے عذاب سے محفوظ ہیں لیکن ان کا مد مقابل اللہ تعالیٰ کی گرفت میں ہے اور قرآن کریم کی بشارتوں کے مطابق جو مسلمانوں کے حق میں دی گئی ہیں اور قرآن کریم کے انذار کے مطابق جو معاندین اسلام کے متعلق دیا گیا ہے یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اپنے پر بھروسہ کرنے والے اور جو طاقت نہیں ہے اس کا بھی اعلان کرنے والے کامیاب نہیں ہوا کرتے۔اخباریں پڑھنے والے اور دنیا کے حالات کا علم رکھنے والے دوست جانتے ہیں کہ آجکل سیاسی لیڈر وہ تعلیاں مارتے رہتے ہیں کہ آدمی حیران ہوتا ہے مثلاً ہٹلر نے اپنے وقت وہ شور مچایا تھا کہ بس اس کے پاس ایسی طاقت ہے اور ایسے مخفی ہتھیار ہیں کہ وہ ساری دنیا کو کھا جائے گا حالانکہ وہ ہتھیار نکلے نہیں۔وہ يُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا کے آیت کے ٹکڑے کے نیچے آ گیا نا کہ وہ دنیا کو یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ وہ ایسے ہتھیار بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں جود نیا کو زیر کرنے کے لئے کافی ہیں اور ان کا مد مقابل کامیاب ہو ہی نہیں سکتا۔دنیا جو کرتی ہے اور دنیا جو نہیں کرتی اس کا یہاں ذکر ہے جو وہ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ جو ان کی طاقت ہے اس پر وہ فخر کرنے لگتے ہیں اور تکبر سے کام لیتے ہیں اور اپنے مفاد کی خاطر انسانوں کے حقوق کو پامال کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں وَيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا اور دوسروں کو ڈرانے کے لئے وہ بڑے مبالغہ