خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 409 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 409

خطبات ناصر جلد ششم ۴۰۹ خطبہ جمعہ ۱۶ ۱۷ پریل ۱۹۷۶ ء کے قیام کے لئے آئے تھے اور تعالوا إلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمُ۔یہ محض ایک دعوت نہیں کیونکہ عیسائیت میں مثلاً بعض ایسے لوگ ہیں کہ جو تثلیث کے قائل ہیں اور ان پر تو بظاہر تعالوا إلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُم کا اطلاق نہیں ہوتا اور اہلِ کتاب میں سے مثلاً یہودیوں میں سے بعض وہ لوگ ہیں جنہوں نے اربابا مِنْ دُونِ اللهِ بنائے ہوئے تھے۔انہوں نے اپنے بزرگوں کو قریباً خدا کا درجہ دے دیا تھا۔ایسے لوگوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے بھی تعالوا إلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُم کا یہ نعوذ باللہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ مسلمان بھی اربابا مِنْ دُونِ اللَّهِ کے قائل ہیں۔مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم نے اس بات کے ثبوت میں اس قدر ز بر دست عقلی اور نقلی ثبوت دیئے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا اہلِ کتاب میں سے کوئی فرقہ اگر کسی کو مقام خدائی دے یا خدا بنا دے یا خدا کا بیٹا بنادے تو قرآن کریم اس بات کی ذمہ داری لیتا ہے اور قرآن کریم کی شریعت نے اس ذمہ داری کو احسن طور پر نباہا ہے اور ثابت کیا ہے کہ اربابا مِنْ دُونِ اللہ کہنے والے لوگ غلطی پر ہیں اسی طرح ایک ایسے عیسائی مخاطب کو جو تثلیث کا قائل ہے اُس پر یہ ثابت کیا ہے کہ تثلیث کا عقیدہ غلط ہے خدا واحد و یگانہ ہے اور یہ عقائد اختلافی جن کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس اقتباس میں ذکر کیا ہے یہ وہ زوائد یا غلط باتیں ہیں جو لوگوں نے اپنے مذہب میں شامل کر لیں لیکن اسلام نے کہا کہ میں دنیا پر یہ بات ثابت کروں گا کہ یہود و نصاری اور ایسے ہی دوسرے مذاہب جن پر کتابیں اتری تھیں لیکن اُنہوں نے ان میں ملاوٹ کر دی اُن میں تحریف کردی یا اُن میں تبدیلی کر کے ان کی شکل کو بگاڑ دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ توحید کی راہ سے بھٹک گئے۔کوئی زیادہ بھٹکا اور کوئی کم بھٹکا لیکن جو بھٹک گیا وہ تو بھٹک گیا قرآن کریم نے اس آیت میں یہ ذمہ داری لی ہے کہ وہ یہ ثابت کرے گا کہ توحید سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ ہے ہر نبی توحید کے قیام ہی کے لئے آیا تھا اور یہ ایک ایسا مسئلہ جس میں باوجود ظاہری اختلاف کے ہمارا اور تمہارا کوئی اختلاف نہیں۔قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ دلائل ساطعہ اور حج قاطعہ کے ساتھ یہ ثابت کرے گا کہ اے اہل کتاب! تم غلط راہ پر ہو۔اس جگہ اور چیزیں تو بعد کی باتیں ہیں لیکن تبلیغ یہاں سے شروع کی کہ اس بات پر ہمیں اور تمہیں اکٹھا ہونا پڑے گا اور ہم تمہیں ثبوت دیں گے۔چنانچہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم