خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 410
خطبات ناصر جلد ششم ۴۱۰ خطبہ جمعہ ۱۶ را پریل ۱۹۷۶ء نے قرآن کریم دنیا کے ہاتھ میں پکڑا کر اور زبردست دلائل دے کر یہ ثابت کر دیا کہ نہ اربابا من دُونِ اللہ کا عقیدہ صحیح ہے اور نہ تثلیث یعنی ایک اور دو اور تین خدا (ایک تین اور تین ایک ) ہیں۔یہ سب نامعقول باتیں ہیں اور انسانی فطرت اور اس کی ضمیر کے خلاف عقیدے ہیں۔لفظی طور پر ساری کتب سماویہ کے کچھ حصے محفوظ ہوتے ہیں ہر چیز تو نہیں بدل جاتی اُن مذاہب کی جن کو ہم اہل کتاب کہتے ہیں (ویسے بعض ایسے مذاہب بھی ہیں جن کو بد مذہب کہا جاتا ہے اُن کو ان کی فطرت کی طرف ہم توجہ دلائیں گے )۔اور ہر مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم جیسی عظیم کتاب ہمارے ہاتھ میں دے کر اور اس کی بہترین تفسیر کر کے دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ واقع میں یہ کلمہ ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے کہ الا نعبد إلا اللہ ہم سوائے خدائے واحد کے کسی کی عبادت نہ کریں۔ہم صرف خدائے واحد و یگانہ کی عبادت کرنے والے ہوں۔یہ ہے بنیادی طور پر مشترک عقیدہ جس کے بغیر مذہب لاشے محض ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں اگر خدا ہی نہیں تو پھر مذہب کوئی چیز نہیں انسان کی اپنی عقل کے ڈھکو سلے ہیں اور بس۔اور اگر خدا ہے اور یقیناً ہے تو وہ ایک ہی ہے باقی سارے عقائد وساوس اور تو ہمات ہیں اور سب غلط اور بے ہودہ ہیں اور قرآن کریم نے ان کی غلطی کو ثابت کیا ہے۔اس لئے جیسا کہ میں نے بتایا ہے کو ہم منسوخ نہیں سمجھ سکتے ہم احمدی یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم کا کوئی لفظ منسوخ نہیں۔چودہ سو سال گزر گئے اور آج بھی قرآن کریم ہر ایک کے کان میں کہتا ہے قل ياهل الكتب تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ - پس جب ہم اس نقطۂ نگاہ سے اُمت محمدیہ کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو پہلے دن ہی سے مقر بین الہی کا ایک گروہ ہمیں نظر آتا ہے جن کو قرآن کریم کا علم اور اس کے اسرار روحانی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئے اور انہوں نے کسی مذہب کے مقابلے میں کبھی یہ وہم پیدا نہیں ہونے دیا که قرآن کریم خود بنیادی طور پر اور دوسرے مذہب کے مقابلہ میں بھی توحید خالص کو ثابت نہیں کرتا لیکن اس آیت میں اہل کتاب کے مقابلہ میں قرآن کریم کی یہ قوت اور یہ طاقت اور اس کے یہ دلائل اشارۃ بیان ہوئے کہ قرآن کریم تو حید خالص کو قائم کرنے والا ہے۔