خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 357
خطبات ناصر جلد ششم ۳۵۷ خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۷۶ء ہوتی ہے لیکن وہ دعاؤں کے نتیجہ میں بدل جاتی ہے کیونکہ دعا میں بڑا اثر ہے لیکن اس کے لئے جس چیز کو Develop( ڈیویلپ) کرنے کی یا جس چیز کو ارتقائی منازل میں سے گزار کر کمال تک پہنچانے کی ضرورت ہے وہ بندے اور خدا کے درمیان وہ تعلق ہے جس کو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں کے مطابق قوت جذب کہا ہے۔آپ نے اپنی کتابوں میں اس قوت جذب پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ دعا کی کیا اہمیت ہے۔اس لئے انسان کو چاہیے کہ وہ دعا کرے کہ خدا تعالیٰ رحمانیت کا جلوہ دکھائے۔پہل بہر حال اس نے کرنی ہے اپنی طرف کھینچنے کی۔انسان اپنے زور سے کچھ نہیں پاسکتا۔اسی لئے کہا گیا ہے خدا کے فضل کے بغیر کوئی نجات نہیں اور نہ کسی کو جنت مل سکتی ہے۔پہلے تو لوگ اس قدرت کا تھوڑا بہت نظارہ دیکھیں گے پھر اس کے بعد مجاہدہ کا دور شروع ہوتا ہے جن کو یہ شرف حاصل نہیں وہ دعا کریں خدا تعالیٰ ان کو رحمانیت کا جلوہ دکھائے اور پھر یہ دعا کریں کہ اس کا جو صحیح اثر ہونا چاہیے انسان کی روح اور اس کے دل پر وہ اثر پیدا ہو اور اس کے مقابلے میں انسان کے اندر جو کشش رکھی گئی ہے یعنی خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہو۔انسان صدق وصفا، ایثار اور قربانی اور انقطاع الی اللہ کے ذریعہ خدا کے قرب کو حاصل کرنے کی کوشش کرے اور خدا کا قرب پالے۔پھر وہ خود بھی دیکھے گا اور دنیا کو بھی دکھائے گا کہ خدا تعالیٰ کس قدر قدرتوں کا مالک ہے۔دنیا جب کہ دیتی ہے کہ کچھ نہیں ہو سکتا اس وقت خدا کی طرف سے بندہ کو بتایا جاتا ہے کہ ہو جائے گا اور وہ ہو جاتا ہے لیکن جیسا کہ میں بتا چکا ہوں خدا اپنے قانون کو توڑتا نہیں لیکن جو قانون دنیا کو نظر آرہے ہوتے ہیں ان میں ایک تبدیلی اپنے کسی ایسے قانون کے ذریعہ کر دیتا ہے جو ہمارے علم میں نہیں ہوتا۔پس دعا ہے، دعا موثر ہے دعا عبادت بھی ہے۔یہ بھی قرآن کریم سے ہمیں پتہ لگتا ہے لیکن دعا محض عبادت نہیں جس کا کوئی اثر نہ ہو بلکہ حصول مطالب کے لئے بہترین چیز ہے ہی دعا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے انسان کی ہر کوشش ایک پہلو دعا کا رکھتی ہے۔جو لوگ خدا کو نہیں جانتے ان کے اندر جذب کا دو طرفہ جوش نہیں پیدا ہوتا۔ان کی دعا ایک مجو بانہ دعا ہوتی ہے اور جو لوگ خدا کو اس کی ذات وصفات کے ساتھ جانتے ہیں ان کی دعا ایک عارفانہ