خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 180
خطبات ناصر جلد ششم ۱۸۰ خطبه جمعه ۳۱/اکتوبر ۱۹۷۵ء زمین دے دی جائے یعنی وہ صرف کلیئرنس دیتی ہے کہ ہاں یہ لوگ ایسے ہیں کہ ان کو زمین دے دینی چاہیے پھر وہ معاملہ دوسری کمیٹی جس کو سٹی کونسل کہتے ہیں اس میں پیش ہوتا ہے اور وہ یہ فیصلہ کرتی ہے کہ وہ عملاً دیں گے یا نہیں دیں گے اور اگر دیں گے تو کہاں دیں گے۔چنانچہ انہوں نے ایک پہاڑی کی چوٹی پر جہاں سے سارا شہر نظر آتا ہے اور اتنا خوشنما منظر ہے کہ دیکھ کر بڑا لطف آتا ہے وہاں ہمیں ڈیڑھ ایکٹر زمین دے دی لیکن ہمارے وہاں کے مبلغ سے یہ غلطی ہوئی کہ اُنہوں نے مجھ سے پوچھے بغیر یہ لکھ دیا کہ ہم نے ڈیڑھ ایکٹر ز مین کیا کرنی ہے ہمیں اس کا نصف دے دیں۔میں سمجھتا ہوں کہ شاید میری بیماری اسی لئے آئی تھی کہ میں لندن جاؤں اور یہ غلطی دور کر دوں۔تو ایسے اچھے نتائج پر ایسی ہزار بیماریاں قربان کی جاسکتی ہیں یعنی اگر ایسی بیماریاں آجائیں تو کوئی حرج نہیں۔اگر میں وہاں نہ جاتا تو یہ کام اسی طرح رہ جاتا مجھے پتہ لگا تو میں نے کہا یہ کیا ظلم ہو گیا ہم تو بڑھنے والی قوم ہیں۔آج ڈیڑھ ایکٹر کا ٹکڑا ہمارے مبلغ کو بہت نظر آیا۔کل ڈیڑھ ایکٹر بھی تھوڑا نظر آنا ہے چنانچہ آدمی بھیج کمال یوسف صاحب ڈنمارک میں ہیں اُن کو بھیجا۔کچھ اور دوستوں کو کہا کہ جاؤ کوشش کرو اس عرصہ میں ایک اور ایسوسی ایشن کو اُس نصف حصہ کی پیش کش ہو چکی تھی۔ہمارے دوست اُن سے بھی ملے اور کہا کہ چونکہ ہمیں پھر دلچسپی پیدا ہو گئی ہے اس لئے اگر تم زیادہ سنجیدہ نہیں ہو تو تم ہمارے لئے یہ چھوڑ دو۔اُنہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم چھوڑ دیتے ہیں۔میں نے سویڈن کی جماعت احمدیہ پر زور ڈالنے کے لئے کہہ دیا تھا کہ میں مسجد کا سنگ بنیا د ر کھنے کے لئے آؤں گا اس شرط پر کہ ہمیں پوری زمین ملے ورنہ نہیں آؤں گا۔پھر اُن کو احساس پیدا ہوا اور اُنہوں نے ادھر اُدھر بھاگ دوڑ کی۔کئی دفعہ متعلقہ افسروں سے جا کر ملے۔زبانی طور پر سب نے وعدہ کر لیا کہ ہم نے فیصلہ کر دیا ہے حتی کہ سٹی کونسل نے بھی کہہ دیا کہ دیں گے ساری زمین لیکن دس اکتوبر کو میٹنگ ہے اور میٹنگ سے پہلے ہم تحریر میں نہیں دے سکتے۔خیر وہ تو پھر میں نے کہا مجبوری ہے چنانچہ میں نے وہاں جا کر مسجد کی بنیاد رکھی جو ایک پہاڑی کی چوٹی پر کھلی فضا میں واقع ہے۔