خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 58 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 58

خطبات ناصر جلد ششم ۵۸ خطبه جمعه ۱۴ فروری ۱۹۷۵ء ہیں جن کے بچے نوکر ہو جاتے ہیں اور کمانے لگ جاتے ہیں اُن کے گھر کے اخراجات کم ہو جاتے ہیں کیونکہ اُن کے بچے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔غرض بدلے ہوئے حالات میں افراط زر کی وجہ سے سال رواں پر بہر حال اثر پڑا۔اس کے علاوہ جو ہنگامی حالات تھے اُن کا بھی سال رواں کے چندوں پر اثر پڑا۔تاہم جماعت کا جو یہ اصول تھا کہ جو روزمرہ کی ضرورتیں ہیں وہ جماعت پورا کرے گی اس کی تو خدا تعالیٰ نے توفیق دی اور ہنگامی حالات میں بھی ضرورتیں پوری ہوئیں۔چنانچہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں لکھوکھہا روپیران ضروریات پر خرچ کرنا پڑا اور اس کے لئے چندہ کی کوئی اپیل بھی نہیں کی گئی جو مہنگائی کا اثر پڑ سکتا تھا وہ اتنا نہیں پڑا جتنا باہر پڑ سکتا تھا کیونکہ نظام سلسلہ اپنے کا رکنان کو بعض سہولتیں دیتا ہے مثلاً گندم ہے کارکنان کی ضروریات کی ایک چوتھائی تو ویسے ہی مفت دی جاتی ہے اور تین چوتھائی کے لئے قرض دیا جاتا ہے۔جو دوست گندم کے لئے قرض لیتے ہیں اور کہیں اور خرچ کر دیتے ہیں وہ تکلیف اُٹھاتے ہیں۔اُن کو ہم وعظ ونصیحت بھی کرتے ہیں اور ڈانٹ ڈپٹ بھی ہوتی ہے مگر پھر بھی کچھ لوگ اس نصیحت سے فائدہ نہیں اُٹھاتے۔میں ایسے لوگوں سے کہوں گا کہ وہ اپنے آپ پر رحم کرتے ہوئے آئندہ گندم کی امداد کو گندم کی شکل میں رکھیں۔جس آدمی کے گھر میں سال بھر کی گندم ہوتی ہے وہ سال بھر بھوکا نہیں رہتا اور ویسے بھی جو مرکز ہے اس میں رہنے والوں کو بڑا شکر گزار بندہ بن کر رہنا چاہیے۔غیر ممالک سے ہمارے جو دوست جلسہ سالانہ پر یہاں آئے ہوئے تھے ان میں سے بعض ہندوستان بھی گئے واپسی پر وہ کہنے لگے کہ ہندوستان میں قادیان کے درویشوں میں جتنی بشاشت ہمیں نظر آئی اتنی کہیں بھی نظر نہیں آئی۔اس اطمینان اور بشاشت کی وجہ یہ ہے کہ ان کی ضرورتوں کا اس طرح خیال رکھا جاتا ہے کہ صرف آنکھیں بند کر کے یا اندھے قانون کے نتیجہ میں نہیں بلکہ اُن کی جوضرورتیں ہوتی ہیں وہ پوری کی جاتی ہیں اور ضرورتوں کے مطابق ان سے سلوک کیا جاتا ہے اسی طرح اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ یہاں پاکستان میں ربوہ جتنا مسکراتا ہوا شہر ہمیں اور کہیں نظر نہیں آیا۔ٹھیک ہے ہمیشہ مسکراتے رہنے کا میں نے آپ کو کہا بھی ہوا ہے اس لئے ہر وقت مسکرا یا کرو۔