خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 631
خطبات ناصر جلد ششم ۶۳۱ خطبہ جمعہ ۳۱ دسمبر ۱۹۷۶ء لیتی ہے تو وہ لوگ میرا منہ دیکھنے لگے۔چنانچہ پتہ لگا کہ انہوں نے کبھی استعمال ہی نہیں کی اور نہ استعمال کرنی آتی ہے لیکن جنہوں نے وہ بنائی ہے وہ اسے استعمال کر رہے ہیں۔چنانچہ جب ہم چیونٹی کے پاؤں کو بڑا کر کے میگنیفائی (Magnify) کر کے اس کی تصویر لیتے ہیں تو اس کے اندر بھی، اس چھوٹی سی چیز میں بھی خدا تعالیٰ نے ایک دنیا سمیٹی ہوئی ہے اور انسان ویسا بنا ہی نہیں سکتا۔ویسے تو ہر چیز جو خدا تعالیٰ نے پیدا کی اس کی ذات پر دلیل بنتی ہے۔ہر چیز کا بے مثل و مانند ہونا یعنی ایسا ہونا کہ اس جیسی چیز انسان نہیں بنا سکتا اس سے بڑھ کر تو سوال ہی نہیں اس جیسی چیز بھی انسان نہیں بنا سکتا۔یہ بات ایک محکم دلیل قائم کرتی ہے خدا تعالیٰ کی ذات پر اور اس کی ہستی پر لیکن میں نے آپ سے کہا تھا کہ اس وقت میں صرف ایک دلیل بیان کروں گا سو وہ دلیل قرآن عظیم ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعہ نازل ہونے والی ایک ایسی کتاب جو لفظاً محفوظ کی گئی اس کے اندر کوئی تبدیلی انسان کی شرارت یا انسان کی جہالت یا انسان کی غفلت یا انسان کی بے پرواہی کر ہی نہیں سکتی کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس کتاب کو اپنی حفاظت میں رکھا ہے۔اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :۔جو چیز محض قدرت کا ملہ خدائے تعالیٰ سے ظہور پذیر ہو خواہ وہ چیز اس کی مخلوقات میں سے کوئی مخلوق ہو اور خواہ وہ اس کی پاک کتابوں میں سے کوئی کتاب ہو جو لفظ اور معناً اسی کی طرف سے صادر ہو اس کا اس صفت سے متصف ہونا ضروری ہے کہ کوئی مخلوق اس کی مثل بنانے پر قادر نہ ہو۔قرآن کریم کا یہ دعوی ہے کہ میں بے مثل و مانند ہوں، یہ نہیں ہے کہ اس کو اپنے بے مثل ہونے کے لئے کسی انسان کی مدد کی ضرورت ہے بلکہ خود قرآن کریم کا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن کریم بے مثل و مانند ہے۔قرآن کریم نے دو تین جگہ اپنے مضمون کے لحاظ سے اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ الہامی کتاب نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں نہیں اور یہ لفظا اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوئی تو اس جیسی کوئی کتاب ( یا سورۃ یا حصہ کا مطالبہ ) بنا کر پیش کر دو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ شان ہے کہ آپ کی تحریر اصولی طور پر ہر چیز کا احاطہ کر