خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 604 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 604

خطبات ناصر جلد ششم ۶۰۴ خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۷۶ء کس قدر بد قسمتی ہے انسان کی کہ وہ خدا سے دور ہو گیا ہے اور باوجود دُنیوی آسائشوں کے قلبی راحت سے وہ محروم ہو گیا ہے۔اس وقت یہ سمجھا جاتا ہے کہ دُنیوی تہذیب اپنے عروج پر ہے امریکہ ہے، انگلستان اور یورپ کے دوسرے ممالک ہیں، ان کے علاوہ بھی کئی دوسرے ملک ہیں جن کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بہت ہی مہذب ہیں۔اُن کی تہذیب اپنے عروج تک پہنچ گئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ انہیں روحانی اور قلبی طور پر سکون حاصل ہے اور نہ اُن کا معاشرہ امن اور سکون کی ضمانت دیتا ہے۔اب اس وقت اس مہذب دنیا میں جو سب سے مہذب جگہ یا شہر تصور میں آ سکتا ہے وہ تو وہی جگہ ہو سکتی ہے جہاں دنیا کی اقوام نے اپنا اڈہ بنایا یعنی U۔N۔O (اقوام متحدہ) جس شہر میں قائم ہے نیو یارک اس کا نام ہے اور وہ امریکہ میں ہے۔اس دفعہ جب میں وہاں دورے پر گیا تو وہاں کے ہمارے مبلغ انچارج کہنے لگے کہ جس جگہ کسی زمانہ میں وہ جگہ بڑی اچھی تھی ) ہمارا مشن ہاؤس ہے اور جہاں نمازیں پڑھی جاتی ہیں جب شہر بڑھا اور حالات بدلے تو اب اس کا یہ حال ہے کہ وہ ہنس کر کہنے لگے کہ جب میں یہاں آیا تو احمدیوں نے مجھے کہا کہ دیکھنا سورج غروب ہونے کے بعد اس مشن ہاؤس سے باہر نہ نکلنا۔اگر باہر ہوں تو سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے واپس آجانا کیونکہ کچھ پتہ نہیں کہ راستے میں تمہیں پکڑ لیا جائے اور تمہارے پیسے چھین لئے جائیں ، گھڑی اُتار لی جائے یاز دوکوب کیا جائے۔غرض اس مہذب دنیا میں جرائم اس کثرت سے پیدا ہو چکے ہیں کہ ایک انسان جو خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا اور یقین رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے قرب کے بغیر حقیقی راحت اور سکون مل ہی نہیں سکتا ، وہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ یہ لوگ خدا سے دور ہو گئے اور انہوں نے اپنی تمام حقیقی راحتیں اور تمام چے سکون عارضی خوشیوں پر قربان کر دیئے ہیں۔جرائم کی کثرت نے اندرونی طور پر ان قوموں کا جو مہذب ترین اقوام کہلاتی ہیں سکون برباد کر دیا ہے۔مجھے یاد آیا کسی یورپین ملک کے ایک بہت بڑے افسر جو اپنی فرم کی طرف سے ہمارے ہاں ٹھیکوں (Contracts) پر کام کرنے کے سلسلہ میں یہاں آئے ہوئے تھے اُنہوں نے ہزاروں روپیہ دے کر السیشن (Alsation)