خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 41
خطبات ناصر جلد ششم خطبه جمعه ۳۱ / جنوری ۱۹۷۵ء کی رحمت کے نتیجہ میں اور اس ابدی حیات کی وجہ سے تھی جو بعد میں آنے والوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان سے عطا ہوئی جس کا اُس وقت کی دنیا بالخصوص عیسائی دنیا مقابلہ نہ کرسکی کیونکہ یہ وہی مقابلہ تھا جو نور کو ظلمات سے ہو سکتا ہے۔مسلمانوں نے دنیوی علوم کو رائج کرنے کے لئے کئی تعلیمی ادارے، کئی یو نیورسٹیاں قائم کیں جن میں بہت سے بڑے بڑے پادری داخل ہوتے تھے اور وہاں مروّجہ علوم حاصل کرتے تھے۔غرض مسلمانوں نے بخل سے کام نہیں لیا کیونکہ بخل خدا تعالیٰ کی صفات سے تضاد رکھتا ہے اس لئے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا اور نہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوسکتا ہے کیونکہ آپ رحمۃ للعالمین بن کر دنیا کی طرف آئے تھے۔آپ کے صحابہ بھی آپ کے رنگ میں رنگین تھے اس لئے اُن مومنین کی طرف بھی بخل منسوب نہیں ہو سکتا جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو اپنالیا اور خیر ہی خیر بن کر دنیا کی اس طرح خدمت کی کہ انسان کی آنکھ نے وہ جذ بہ کسی زمانہ میں اور کسی قوم میں نہیں دیکھا۔افریقہ جس پر اب پھر تنزل کا زمانہ ہے اور بہت سے لوگوں نے اسلام کو چھوڑ بھی دیا ہے اور اب اندھیروں اور ظلمات کا علاقہ بنا ہوا ہے اس میں اس زمانہ میں بھی جب کہ راہیں قریباً مسدود تھیں لوگوں کو دین واحد پر اکٹھا کرنے کے لئے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو سامنے رکھتے ہوئے مسلمان دور دُور تک پہنچے اور اُنہوں نے افریقہ میں بسنے والوں کے اندھیرے دور کئے۔اُن کی ترقیات کے سامان پیدا کئے اور اُن کے دُکھوں کو سکھ سے بدل دیا۔اُنہیں دین ودنیا کے علوم سکھائے اور اُن کا اللہ تعالیٰ سے ایک زندہ تعلق قائم کیا جو انسان کے لئے سب سے بڑی نعمت ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی ہر جہت اور ہر لحاظ سے نفع مند اور فیض رساں زندگی ہے۔آپ کا یہ فیض آپ کی قائم رہنے والی روحانی حیات ہے جس کے نتیجہ میں پچھلے چودہ سوسال میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں نے آپ کے فیض سے بہرہ ور ہوتے ہوئے اپنے پیدا کرنے والے ربّ کریم سے ایک زندہ تعلق پیدا کیا۔خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کیا۔یہ دروازہ آج بند نہیں اور نہ قیامت تک کبھی بند ہوگا۔