خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 42 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 42

خطبات ناصر جلد ششم ۴۲ خطبه جمعه ۳۱ / جنوری ۱۹۷۵ء قُلْ إِن كُنتُم تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران:۳۲) کی رو سے ہر وہ شخص جو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی محبت کی تلاش میں نکلے گا وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کو پالے گا اور اس کی زندگی اندھیروں سے نکل کر اللہ تعالیٰ کے نور میں داخل ہو جائے گی پھر اُس کی زندگی ایک منور زندگی، ایک مسرور زندگی ، ایک کامل زندگی اور ایک نفع بخش زندگی بن جائے گی۔اُمت محمدیہ میں بعض ایسے لوگ بھی ہوئے ہیں جو یہ سمجھتے رہے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیشہ قائم رہنے والی زندگی عطا نہیں ہوئی تھی اور آپ کے ذریعہ سے فیوض اور برکات اور رحمتیں حاصل نہیں کی جاسکتیں۔جماعتِ احمدیہ کا یہ عقیدہ نہیں جماعت احمد یہ تو اس پختہ عقیدہ پر قائم ہے کہ ہمارے پیارے رسول محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ایک زندہ نبی ہیں۔آپ کی زندگی کا ثبوت یہ ہے کہ دنیا کی نگاہوں میں دھتکاری ہوئی اس جماعت میں ہزار ہا خدا کے ایسے بندے پیدا ہوتے رہے ہیں، اب بھی ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض و برکات سے حصہ لیتے ہیں اور جن کی زندگیوں میں ایک نمایاں تبدیلی پیدا ہوتی رہی ہے اور ایک قسم کی مردنی جو دوسروں میں نظر آتی ہے، اس سے نجات حاصل کی۔ہم نے ایک ایسی زندگی پائی جو حقیقی زندگی ہے یعنی وہ زندگی جو خدا تعالیٰ سے ایک پیار اور زندہ تعلق پیدا کرنے کے بعد انسان کو ملتی ہے۔چنانچہ اس پیارے اور زندہ تعلق کو پانے کے بعد ، خدا تعالیٰ کے پیار کے حصول کے بعد، خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت حاصل ہو جانے کے بعد ، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور شان کے دریافت کر لینے کے بعد اور پھر اس عظمت اور اس شان اور اس حسن اور اس احسان سے عملاً اپنی زندگیوں میں ایک تبدیلی محسوس کر لینے کے بعد انسان ایک طرف تو اپنے خدا کے ذکر میں ہمیشہ محور ہنے والا بن جاتا ہے اور دوسری طرف اس کی زبان پر ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا درود جاری رہتا ہے۔ایسی صورت میں پھر دنیا اور دنیا داروں کی اُسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔اگر ہم اس کا ئنات پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اصل میں دو ہی زندگیاں نظر آتی ہیں۔ایک