خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 582 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 582

خطبات ناصر جلد ششم ۵۸۲ خطبہ جمعہ ۲۹/اکتوبر ۱۹۷۶ء قحط پڑا ہے، چارے بھی خشک ہو گئے ہیں، جانور بھی تکلیف میں ہیں اور انسان بھی تکلیف میں ہیں اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لئے بھلائی کے سامان پیدا کرے اور اپنی رحمت کی بارش نازل کرے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور ابھی جمعہ ختم نہیں ہوا تھا کہ بارش شروع ہو گئی۔بارش ہوتی رہی اور سات دن زمین خوب سیراب ہوئی۔اگلے جمعہ میں پھر کھڑے ہو گئے کہ یا رسول اللہ بارش تو زیادہ ہو گئی ہے اب ہمیں بارش کی زیادتی نقصان پہنچا رہی ہے۔یا رسول اللہ ! دعا کریں کہ بارش تھم جائے۔آپ نے دعا کی اور بارش تھم گئی۔اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے اور خدا تعالیٰ نے آپ کی دعا سے اس علاقے میں آپ کی صداقت اور آپ سے اپنے پیار کا ایک نشان ظاہر کرنا تھا چنانچہ اس طرح لِلَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ الْحُسْنٰی کے مطابق ان کی کامیابی اور فلاح کے اللہ تعالیٰ نے سامان پیدا کر دیئے اور اب مہینوں انگلستان پانی کے لئے تڑپتا رہا لیکن اسے پانی نہیں ملا اور جب پانی ملا اور اس کی زیادتی ہوگئی تو اس پانی کو بند کرنے کے لئے اور اس میں مناسب توازن قائم کرنے کے لئے ان کو کوئی سہارا نہیں ملتا تھا۔وہ لوگ اسی چکر میں رہتے ہیں۔میں نے تو ایک چھوٹی سی مثال دی ہے ورنہ ان کی ساری زندگیاں ہی اسی چکر میں ہیں۔شراب کے نشے میں اپنے دکھوں کو بھولنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔وہ شراب جس کے متعلق قرآن کریم نے کہا ہے کہ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطن (المائدة : ٩١) کہ یہ شیطانی عمل کی گندگی ہے اور وہ خدا کی طرف جھکنے کی بجائے ذکر اللہ کی بجائے شیطانی عمل کی طرف جھک کر اپنے لئے سکون قلب تلاش کرتے ہیں لیکن دکھ کا بھول جانا تو اطمینان قلب نہیں کہلا سکتا کہ جی ہمیں یاد نہیں رہا۔جیسے کہ اگر کوئی آدمی بیمار ہو اور درد میں تڑپ رہا ہو اسے ڈاکٹر افیم کا مافیا کا ٹیکہ لگا دیتے ہیں اور بے حس کر دیتے ہیں لیکن بے حسی سکون قلب اور خوشحالی کی علامت نہیں۔بے حسی خواہ کسی فعل کے نتیجہ میں پیدا ہوٹیکہ لگانے کے نتیجہ میں یا شراب پینے کے نتیجہ میں وہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان تکلیف میں ہے لیکن اس کو کوئی مدا وہ نظر نہیں آتا ، اس کو کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔وہ خود کو بے حس اور بے ہوش کر کے یا نیم بے ہوشی اپنے اوپر طاری کر کے تکلیف کا احساس دور کرنا چاہتا ہے کیونکہ تکلیف کو دور کرنے کا کوئی سامان اس کے پاس نہیں ہے۔