خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 559
خطبات ناصر جلد ششم ۵۵۹ خطبہ جمعہ ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۶ء اور جو وعدہ کیا تھا اس کے مطابق کام شروع ہو گیا اور خدا تعالیٰ نے آمد کے سامان پیدا کر دیئے۔گوٹن برگ میں جو مسجد بنی ہے اس کی تعمیر میں بھی انگلستان کی جماعتوں نے زیادہ رقم خرچ کی ہے یعنی قریباً اسی ہزار پاؤنڈز جس کا مطلب ہے کہ پرانی شرح تبادلہ کے مطابق قریباً ۱۸۔۲۰ لاکھ روپے اور اب تو شرح اور کم ہوگئی ہے۔بہر حال جس وقت انہوں نے رقم دی تھی اس وقت کی شرح کے مطابق یہی رقم بنتی ہے اب انٹی ہزار پاؤنڈ ز یا انٹئی لاکھ پاؤنڈ ز بھی لوگوں کے دل تو مارکیٹ میں جا کر نہیں خرید سکتے۔نیت بخیر تھی دعائیں کرتے ہوئے اس کے حضور عاجزانہ جھکتے ہوئے پہاڑ کی ایک چوٹی پر خدا کا ایک گھر تیار کر دیا گیا جہاں سے سارا شہر نظر آتا ہے اور سارے شہر کو جہاں سے خدا کا گھر نظر آئے گا۔غرض ایک بڑی خوبصورت عمارت بن گئی ہے دیکھنے کے لحاظ سے بھی اور Utility کے لحاظ سے بھی۔لیکن جس دن افتتاح تھا اس دن ایک ملک کے سب سے بڑے پادری بھی وہاں موجود تھے وہ بھی وہاں کھنچے چلے آئے۔سارا دن یہ نظارہ دیکھنے میں آیا میں بھی کچھ دیر باہر دوستوں کے ساتھ کھلے جنگل کے درختوں کے سایہ میں رہا اور دوستوں سے ملتا رہا جو کا ر آتی تھی کھڑی ہو جاتی تھی۔کچھ دیکھتے رہتے تھے وہاں سے اور کچھ اتر کر اندر آ جاتے تھے کچھ بسوں میں آتے تھے اور اتر کر اندر جاتے تھے۔یہ کھلی زمین تھی پتہ نہیں کب کی پڑی ہوئی تھی۔میں ابھی وہیں تھا کہ کمال یوسف مشنری انچارج کو پیغام آیا دو بوڑھی عورتوں کا کہ جس جگہ تمہاری مسجد بنی ہے اس جگہ ایک پگڈنڈی نیچے سے اوپر کو جاتی تھی ہم اس پر سیر کرتے ہوئے یہاں سے گذرا کرتی تھیں اب آپ کی مسجد بن گئی مشن ہاؤس بن گیا اب ہمیں یہ پگڈنڈی چھوڑنی پڑے گی۔وہ گذر رہی تھیں کہ ساتھ یہ بھی کہا۔کمال یوسف میرے پاس آئے میں نے کہا نہیں ! انہیں روک کر یہ پیغام دو کہ جس طرح پہلے یہ پگڈنڈی آپ کی سیر گاہ تھی اب بھی رہے گی۔آپ کو اس علاقے سے گذرنے سے کوئی نہیں روکتا۔غرض دن میں سینکڑوں آدمی وہاں سے گذرتے ہوئے دیکھنے کے لئے آجاتے ہیں۔محلے کا یہ حال ہے کہ پندرہ ہیں بچے ہر وقت وہاں رہتے تھے۔وہ شوخیاں بھی کرتے تھے شرارتیں بھی