خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 554 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 554

خطبات ناصر جلد ششم ۵۵۴ خطبہ جمعہ ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۶ء وقت میں تو طالب علم پاس بھی نہیں ہوتے تھے اور اُنہوں نے وہاں منگوانے شروع کر دیئے۔میں کئی لوگوں کو جانتا ہوں بڑی جلدی اُن کو بلا لیا یہ کہتے ہوئے کہ اچھا تم اس کام میں ماہر ہو آ جاؤ کام کی ضرورت ہے اور مہارت یہی نہیں کہ اچھا ڈاکٹر ہے، انجینئر ہے بلکہ جو ویلڈنگ کے کام میں ماہر ہے اس کو وہ کہیں گے کہ آجاؤ ہمارے پاس اُن کی انڈسٹری بڑھ رہی ہے اور ایسے کاموں کی مہارت کی بھی اُن کو ضرورت ہے بہر حال اُن کی مہربانی ہے کہ غیر ممالک کے لوگوں کو آنے دیتے ہیں وہاں صرف احمدی ہی نہیں دوسرے بہت سارے لوگ گئے ہوئے ہیں۔ہمارے ملک کے دوسرے مسلمان بھی وہاں گئے ہوئے ہیں۔بہر حال اس وقت وہاں ہماری بڑی جماعت ہے گو وہ پھیلی ہوئی ہے لیکن ٹورنٹو کے قریب میں نے ایک جگہ دیکھی بھی تھی میں نے اُن کو کہا ہے کہ ۱۰۔۱۲۰ یکٹر زمین کمیونٹی سنٹر کے لئے خرید لو۔آخر میں تو ہر شہر کے لئے کمیونٹی سنٹر ہونا چاہیے جہاں ہمارے احمدی بچے چھٹیوں کے اوقات گزاریں اور وہاں ان کو بڑے خوشگوار ماحول میں رکھا جائے۔بچے خوش ہیں اور انتظار کر رہے ہیں کہ کب چھٹیاں آتی ہیں اور کب ہمیں موقع ملتا ہے وہاں جانے کا۔وہ تو ایک لمبی سکیم ہے جب اُن کے ساتھ باتوں باتوں میں بہت ساری چیزیں سامنے آئیں تو میں نے اُن کو ہدائتیں دیں لیکن بہر حال ایک نہایت اعلیٰ درجہ کا دلچسپی رکھنے والا سنٹر جس میں چھوٹی عمر کے بچے چھلانگیں مارتے جائیں اور وہاں اسلام کی باتیں سیکھیں اور بڑے جائیں اور اُن کے ریفریشر کورسز ہوں۔یہاں تو جس سال اجازت ہوجائے اطفال اور خدام تین دن کے لئے آیا کرتے ہیں اور وہاں تو وہ تین ہفتے کے لئے جا کر ٹھہرا کریں گے اور بہت کچھ سیکھیں گے۔باتیں تو ویسے بہت زیادہ ہیں میں بیچ میں سے ایک ایک دو دو چن رہا ہوں۔پھر ہم ۱۵ اگست کولندن آگئے اور وہاں سے سیدھے گوٹن برگ گئے۔گوٹن برگ میں مسجد کا افتتاح کرنا تھا۔مسجد اللہ کا گھر ہے قرآن کریم نے دنیا میں یہ اعلان کیا ہے۔آنَ الْمَسْجِدَ لِلهِ (الجن : ۱۹) کہ دنیا میں کوئی انسان مسجد کی ملکیت کا دعویدار بن ہی نہیں سکتا۔مسجد کا مالک اللہ ہے۔فَلَا تَدعُوا مَعَ اللهِ احَدًا (الجن : ۱۹) اور ہر موحد خواہ وہ عیسائی ہو جو بھی خدا کے واحد ویگانہ