خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 542 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 542

خطبات ناصر جلد ششم ۵۴۲ خطبه جمعه ۲۰ /اگست ۱۹۷۶ء کے لئے اس کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں۔اس کے بعد حضور نے قرآن مجید کی رو سے اس امر پر روشنی ڈالی کہ مسجد کے کسٹوڈین کون ہیں اور ان کے فرائض کیا ہیں حضور نے فرمایا اس بات کا ذکر اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کریم میں کیا ہے جہاں اُس نے اَنَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ (الجن : ۱۹) کہہ کر اس فیصلے کا اعلان فرمایا ہے کہ مساجد ہمیشہ اللہ ہی کی ملکیت رہیں گی وہاں ساتھ ہی مساجد کے کسٹوڈینز اور ان کی ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔افَمَنْ أسس بنيَانَهُ عَلَى تَقْوَى مِنَ اللهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ أَمْ مَنْ اَتَسَ بُنْيَانَهُ عَلَى شَفَا جُرْفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَاللهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ (التَّوبة : ١٠٩) ( ترجمہ:۔کیا وہ شخص جو اپنی عمارت ( مراد مسجد ) کی بنیاد اللہ کے تقویٰ اور رضا مندی پر رکھتا ہے زیادہ اچھا ہے یا وہ جو اس کی بنیاد ایک پھسلنے والے کنارے پر رکھتا ہے جو گر رہا ہوتا ہے پھر وہ کنارہ اس عمارت سمیت جہنم کی آگ میں گر جاتا ہے اور اللہ ظالم قوم کو ( کامیابی کا راستہ نہیں دکھاتا۔) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس امر پر زور دے کر کہ اپنے اصلی معنوں کی رُو سے مسجد وہی ہے جس کی بنیاد تقوی اللہ اور رضائے الہی پر ہو مساجد کے کسٹوڈینز پر دو اہم ذمہ داریاں عائد کی ہیں:۔اوّل۔یہ کہ وہ اسے پاک صاف اور مطہر رکھیں اس میں پانی مہیا کریں اور ایسی تمام دیگر ضروریات بہم پہنچا ئیں جن کا موجود ہونا عبادات بجالانے کے لئے ضروری ہو۔دوم۔یہ کہ وہ مساجد میں ایسا ماحول پیدا کریں کہ جو لوگ ان میں عبادت کے لئے آئیں ان کا زندہ تعلق خدا تعالیٰ کے ساتھ قائم ہونے میں مدد ملے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دو قسم کی مساجد کا ذکر کر کے ان کے درمیان پائے جانے والے امتیاز کو واضح فرمایا ہے چنانچہ اس آیت کی رُو سے جس مسجد کی بنیاد تقویٰ پر ہو اور وہ لوگوں کا خدا تعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق پیدا کرنے والی ہو وہ حقیقی مسجد ہے برخلاف اس کے وہ مسجد جس کی