خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 531 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 531

خطبات ناصر جلد ششم ۵۳۱ خطبہ جمعہ ۶ راگست ۱۹۷۶ء کی رو سے بھی سو فیصد درست اور مبنی بر حقیقت ثابت ہوا ہے۔صدیوں بعد ریسرچ کرنے والے ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ گویا شہد اور شہد کی مکھیوں کے یہ خواص اُنہوں نے پہلی بار دریافت کئے ہیں حالانکہ قرآن مجید میں ان خواص کا پہلے ہی ذکر موجود ہے۔جب ہم اس نقطۂ نگاہ سے قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں تو دل بے اختیار اللہ اکبر پکار اٹھتا ہے اور گواہی دیتا ہے کہ خدا کی کتاب یعنی قرآن مجید بہت عظمت والی کتاب ہے۔الغرض اللہ تعالیٰ نے قرآنِ عظیم میں ایسے احکام دیئے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ہم زندگی کے تمام میدانوں میں ترقی کر سکتے ہیں۔قرآن سب سے عظیم کتاب ہے سب سے پیاری کتاب ہے۔یہ ہر بار یکی میں جاتا ہے اور ایسے احکام دیتا ہے کہ جن پر عمل کر کے ہم ترقی کی منازل۔بآسانی طے کر سکتے ہیں۔ہمیں چاہیے کہ ہم یہ عہد کریں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کریں گے اور اس کی اطاعت سے کبھی روگردانی نہیں کریں گے اسی میں ہماری کامیابی کا راز مضمر ہے۔ان احکام کی رو سے پہلی ذمہ داری انسان کی یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کی اور خدا تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیتوں کی قدر کرے اور قدر یہی ہے کہ ان کے حقوق بجالائے۔پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کی روحانی ترقی کے پیش نظر ایک اور عظیم اعلان بھی کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ دوسری روح کو بچانے کے لئے اپنی روح کی قربانی پیش کرو۔جہاں جسمانی صلاحیتوں کو ترقی دینے اور اپنے نفس کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم دی وہاں ساتھ ہی نفس پرستی سے منع فرمایا اور اس کے لئے اس نے ہمیں اخلاقی صلاحیتیں عطا کیں۔اُس نے ان اخلاقی صلاحیتوں کو ترقی دینے کے لئے بھی متعدد احکام دیئے ہیں اور تاکید کی ہے کہ ہم ان پر بھی عمل پیرا ہوں اور وجہ اس کی یہ بیان فرمائی کہ اخلاقی احکام پر عمل پیرا ہونا دراصل تیاری ہے ایک اور اہم منزل تک پہنچنے کی۔اور وہ منزل یہ ہے کہ ہم اس زندگی میں روحانی طور پر ترقی کر کے اپنے آپ کو اُس زندگی میں کامیابی کا اہل بنائیں جو کبھی ختم نہ ہو گی یعنی حیات الآخرۃ کو اپنا منتہائے مقصود بنا کر اس دنیا میں اعمالِ صالحہ بجالائیں۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ امر ذہن نشین کرایا ہے کہ اگلے جہان کی زندگی کا آغاز اس دنیا میں ہی ہو جاتا ہے یعنی اس دنیا کی زندگی اور اگلے جہان کی زندگی میں ایک