خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 530 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 530

خطبات ناصر جلد ششم ۵۳۰ خطبہ جمعہ ۶ /اگست ۱۹۷۶ء کی ہیں اور پھر اُس نے ہمیں بعض راہوں پر چل کر ان صلاحیتوں کو ترقی دینے اور حسب استعداد انہیں کمال تک پہنچانے کی ہدایت فرمائی ہے۔ان راہوں پر چلنے سے ہم اس کو پالیتے ہیں اور اس طرح اپنی زندگی کا اصل مقصد ہمیں حاصل ہو جاتا ہے۔وہ راہیں کون سی ہیں؟ سو جاننا چاہیے کہ وہ را ہیں وہ احکام ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں دیئے ہیں۔ان احکام پر عمل کر کے ہم حقیقی فلاح سے ہمکنار ہو سکتے ہیں اور عند اللہ کا میاب قرار پاسکتے ہیں۔ان احکام میں سے بعض کا تعلق ہمارے جسم سے ہے اور بعض کا تعلق ہماری روح سے ہے۔اسی نسبت سے ہماری صلاحیتیں بھی دو قسم کی ہیں ایک جسمانی اور دوسرے روحانی۔ہر دو قسم کی صلاحیتوں کو ترقی دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے علیحدہ علیحدہ احکام دیئے ہیں۔جہاں تک جسمانی صلاحیتوں کو ترقی دینے والے احکام کا تعلق ہے ان میں سے ایک حکم یہ ہے کہ ہم خواہ مخواہ نفس کشی کے مرتکب نہ ہوں۔اسی لئے اُس نے بلا وجہ فاقے کرنے اور جسمانی قوی کو ماؤف کرنے سے منع کیا ہے۔اسی طرح دوسری طرف اُس نے اسراف سے بھی روکا ہے۔جسمانی صلاحیتوں کو ترقی دینے کے سلسلہ میں اُس نے ہمیں درمیانی راستہ پر چلنے کا حکم دیا ہے یعنی انسان نہ تو نفس کو اتنا مارے کہ مضمحل ہو کر نا کارہ ہو جائے اور نہ اس درجہ نفس پروری کرے کہ اسراف کا مرتکب ہو کر نفس پرستی پر اتر آئے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اَلَّا تَطْغَوا فِي الْمِيزَانِ (الرحمن:۹) فرما کر متوازن خوراک اور متوازن عمل کی تعلیم دی ہے Balanced Diet یعنی متوازن غذا کا نظریہ جس کا فی زمانہ بہت تذکرہ سننے میں آتا ہے کوئی جدید نظریہ نہیں ہے بلکہ اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے ہمیں یہی تعلیم دی تھی کہ ہم متوازن غذا استعمال کریں کیونکہ متوازن جسمانی ترقی کے لئے متوازن غذا کی ضرورت ہے۔آج کل کے ماہرین اغذیہ متوازن غذا پر بہت زور دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ متوازن غذا کا نظریہ دنیا میں پہلی بار اُنہوں نے ہی پیش کیا ہے حالانکہ اسلام نے بہت پہلے ہی متوازن غذا کی اہمیت کو اُجا گر کر دیا تھا اسی طرح شہر کے متعلق قرآن مجید میں چند آیات آتی ہیں۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے شہد اور شہد کی مکھیوں کے بارہ میں جو کچھ بیان فرمایا ہے وہ جدید ریسرچ