خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 507 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 507

خطبات ناصر جلد ششم ۵۰۷ خطبہ جمعہ ۱۶؍جولائی ۱۹۷۶ء وارث بنیں گی لیکن اور کیوں بنیں ہم کیوں نہ بنیں؟ اس لئے ہمیں ہماری اس نسل کو اور ہماری آنے والی نسلوں کو یہ دعائیں کرنی چاہئیں ( خدا تعالیٰ توفیق دے ) کہ خدا تعالیٰ کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ وعدہ کہ نوع انسانی کا دل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و احسان کے لئے جیتا جائے گا اور نوع انسانی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے گی ہماری زندگیوں میں ہمارے زمانہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ان حقیر کوششوں کے نتیجہ میں جن کی توفیق ہم خدا سے پائیں اور جن کی قبولیت ہماری کوششیں خدا تعالیٰ سے حاصل کریں یہ وعدہ پورا ہو اور یہ انقلاب آ جائے۔یہ انقلاب اتنا عظیم ہے کہ اگر کوئی احمدی یہ خیال کرے کہ وہ اپنے زور اور اپنی عقل اور فراست سے ایسا انقلاب لا سکتا ہے تو وہ پاگل ہے۔خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہی اس عظیم انقلاب کے لانے کا موجب ہوگی لیکن خدا تعالیٰ کی اس رحمت اور اس فضل کو جذب کرنے کے لئے ہمیں دعا ئیں بھی کرنی پڑیں گی، ہمیں قربانیاں بھی دینی پڑیں گی اور ہمیں خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی پیار سے دل جیتنے کی تدابیر کو بھی اختیار کرنا پڑے گا۔خدا تعالیٰ سے یہ دعا بھی کریں جو کہ در اصل پہلی دعا کے ضمن میں ہی آتی ہے کہ اب ملک ملک کے لوگ جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئے ہیں وہ ہزار ہا میل دور ہیں چار ہزار میل دور، پانچ ہزار میل دور، دس ہزار میل دور۔تربیت کے مواقع ان کے لئے کم ہیں۔ایک ایمان کا جذبہ ہے ایک محبت ہے جوان کے اندر موجود ہے لیکن ہر جذ بہ اپنی نشو و نما کے لئے کچھ تدبیر مانگتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے لئے کچھ کیا جائے۔اس چیز کی کمی ہے۔خدا تعالیٰ ان کے لئے ایسے سامان پیدا کرے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں کے لئے اسوہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ بنیں اور اس طرح پر وہ لوگوں کی توجہ اُس حسن اور اس احسان کی طرف کھینچنے والے ہوں جس حسن اور احسان نے حقیقتا نوع انسانی کے دل کو اپنی طرف کھینچ کر ایک انقلاب عظیم بپا کرنا ہے وہ حسن اور وہ احسان جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن واحسان ہے کہ جس سے بڑھ کر کہیں اور نوع انسان میں آدم سے لے کر آج تک ہمیں نظر نہیں آیا۔پس وہ لوگ بھی بہت دعاؤں کے مستحق ہیں ان لوگوں کی بڑی قربانی ہے ان کا اپنا ایک ماحول ہے وہ گندہ ہے ، خراب ہے جو کچھ بھی ہے لیکن وہ اس ماحول کی پیداوار ہیں اس میں سے وہ