خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 484 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 484

خطبات ناصر جلد ششم ۴۸۴ خطبہ جمعہ ۲۵ جون ۱۹۷۶ء اس قسم کے حالات میں جبکہ ان کے خلاف ہر طرف ایک آگ لگائی گئی تھی انہوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا۔ان کے لئے سمجھنا مشکل ہے ان کو تو ہم معذور سمجھتے ہیں لیکن ہمارے لئے لمبی تربیت کے بعد سمجھنا بھی آسان ہو گیا ہے اور اس پر عمل کرنا بھی آسان ہو گیا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ظلم کے مقابلہ میں ظلم کرنے سے ایک ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے کہ جس کی کوئی انتہاء نہیں اور جو ختم ہونے والا نہیں۔لیکن الہی سلسلے وہ سد سکندری ہیں جو ظلم کے سامنے کھڑی ہو کر اس کو بند کر دیتی ہے اگر ۷۴ء کے فسادات میں جماعت احمدیہ کا یہ ردعمل نہ ہوتا تو ایک تو جماعت احمدیہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لیتی ، دوسرے فتنہ و فساد کا ایک اتنا لمبا سلسلہ چلتا کہ میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس کے بعد ہمارا ملک باقی رہتا لیکن اس وقت میں ملک کے متعلق بات نہیں کر رہا وہ بعد میں کروں گا۔اس وقت میں یہ بات کر رہا ہوں کہ اولی الامر میں ، صاحب امر میں دو چیزیں ہیں ایک صاحب امر کا ہونا اور دوسرے امر کا ہونا۔یعنی ایک تو قانون کو نافذ کرنے والے حاکم کا ہونا اور دوسرے قانون کا ہونا پس قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا اور جو حاکم وقت ہے جس کا یہ کام ہے کہ وہ اپنے ملکی قانون کے مطابق انسان انسان معاملہ کرے اس کی اطاعت کرنا ہے۔لیکن اس آیت میں حاکم وقت کا جو ذکر ہے اس کے معنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کئے ہیں کہ ضروری نہیں کہ وہ مسلمان ہی ہو۔کسی نے سوال کر دیا تھا کہ پھر منگھ“ کا کیا " 66۔9919 مطلب ہو گا؟ آپ نے فرمایا کہ جو حاکم وقت ہمیں احکامِ شریعت کے خلاف حکم نہیں دیتا وہ منکم کے دائرہ کے اندر آ جاتا ہے۔یہ بڑا لطیف اور بڑا گہرا فلسفہ ہے لیکن اس لطیف اور گہرے فلسفہ پر میں اس وقت تفصیل سے روشنی نہیں ڈالوں گا بہر حال آپ سن لیں اور سمجھ لیں کہ غیر مسلم حاکم بھی اگر ہمیں احکام شریعت کے خلاف حکم نہ دے تو وہ بھی میں آجاتا ہے کیونکہ اسلام کی تعلیم صرف پاکستان کے متعلق تو نہیں ہے یہ تو ساری دنیا کی حکومتوں کے متعلق ہے اور ساری دنیا میں احمدی بستے ہیں۔پس " أولي الأمر اگر افریقہ کی ایک عیسائی حکومت ہو اور وہ اسلام کی شریعت کے احکام کے خلاف قانون بنانے والی نہ ہو تو اس کی اطاعت بھی ایسی ہی ضروری ہے جیسی کہ پاکستان میں