خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 485
خطبات ناصر جلد ششم ۴۸۵ خطبہ جمعہ ۲۵ جون ۱۹۷۶ء ایک مسلمان حکومت کی اطاعت۔لیکن اگر شریعت کے احکام کے خلاف کوئی حکم ہو مثلاً افریقہ میں کوئی بت پرست حکومت مسلمانوں کو یہ کہے کہ جو پتھر کے بت ہم نے تراشے ہیں تم ان کے سامنے سجدہ کرو۔تو پھر اُس وقت اُس کا حکم نہیں ماننا کیونکہ اطاعت اللہ کی اور اطاعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اولیٰ ہے اُولی الامر کی اطاعت سے۔اگر افریقہ کی حکومت یہ کہے کہ قبروں پر سجدے کرنا ضروری ہے تو اس وقت کوئی موحد مومن مسلمان یہ حکم ماننے کے لئے تیار نہیں ہو گا لیکن اس وقت دنیوی لحاظ سے انسان کے اندر اس قسم کی سیاسی بیداری پیدا ہو چکی ہے کہ میرا نہیں خیال کہ کوئی حکومت اس قسم کے آرڈر جاری کرے جو انسانی فطرت کے خلاف ہوں اور جب میں کہتا ہوں کہ انسانی فطرت کے خلاف تو ساتھ ہی میں یہ بھی کہتا ہوں کہ شریعت حقہ اسلامیہ کے خلاف ہوں کیونکہ قرآن کریم فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (الروم : ۳۱) کے مطابق اور انسانی فطرت کے عین مطابق آیا ہے۔بہر حال یہ بیداری پیدا ہو چکی ہے اس بیداری میں عارضی طور پر غنودگی بھی ہو سکتی ہے۔اس وقت میں جماعت کو جو چیز بتا رہا ہوں وہ یہ ہے کہ شروع سے لے کر اس وقت تک ہمارا مسلک یہ ہے کہ نہ قانون کو ہاتھ میں لینا ہے اور نہ حاکم وقت کی عدم اطاعت کرنی ہے بلکہ اُس کی اطاعت کرنی ہے اور تابعداری کرنی ہے اگر حکم اسلامی شریعت کے خلاف نہ ہو یعنی بالمعروف ہو۔پانچویں بات اس سلسلہ میں یہ ہے کہ احمدی جس جگہ بھی ہیں اور جس ملک کے بھی Citizen ( شہری ) ہیں، وہ اپنے ملک کے وفادار ہیں۔جہاں تک ہم اپنے آپ کو سمجھتے ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ہم اپنے آپ کو صحیح سمجھتے ہیں، ہم دھو کے میں نہیں۔احمدی کے متعلق یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنے ملک سے غداری کرنے والا ہوگا۔ہم تو یہ سمجھتے ہیں گو کوئی ہماری ہنسی اڑائے گا اور کوئی حقارت کی نگاہ ہم پر ڈالے گا لیکن جہاں تک ہماری سمجھ کا تعلق ہے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کے استحکام کی اور حکومت کی ترقی کی اور حکومت کی غداریوں سے بچانے کی سب سے زیادہ ذمہ داری جماعتِ احمد یہ اور اس کے افراد پر ہے۔اس کے لئے ہم ایک در بھی کھٹکھٹاتے ہیں اور یہ ہمارا مشاہدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس در کو جو کھٹکھٹاتا ہے اور دھونی رما کے وہاں بیٹھ جاتا