خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 468
خطبات ناصر جلد ششم ۴۶۸ خطبہ جمعہ ۲۱ رمئی ۱۹۷۶ء جس کے اندر احسان کی بڑی زبر دست طاقتیں ہیں اس کے متعلق ظاہری دشمن نے بھی یہ اعلان کیا کہ یہ تو کوئی چیز نہیں ہے اور اس کی طاقت کوئی طاقت نہیں ہے۔ان کے خیال میں یہ روحانی علم ایسا تھا کہ جسے تلوار کی دھار کاٹ سکتی تھی۔تلوار کی دھار مادی چیزوں کو کاٹا کرتی ہے اور جو روحانی قوتیں اور طاقتیں ہیں انہیں تلوار کی دھار اور انہیں تیر خواہ وہ کس قدر طاقتور کمان سے ہی کیوں نہ چھوڑے جائیں اور انہیں نیزہ کی انی نہیں کاٹا کرتی وہ علم تو اپنی جگہ قائم رہنے والی روحانی طاقت ہے لیکن انہوں نے اپنے زعم میں یہی خیال کیا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے چند ایک ہیں شاید وہ ان کی گردنیں اڑا کر خدا تعالیٰ کے سلسلہ کو ختم کر دیں گے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس ظاہری دشمن کا بھی مقابلہ کرنا ہے جب وہ ظاہری اور مادی سامان لے کر آئے تو تمہیں ظاہری اور مادی سامان لے کر اس کے مقابلہ میں جانا چاہیے خواہ اس کے مقابلہ کے لئے تمہارے پاس ظاہری اور مادی سامان ان کی طاقت کے مقابلہ میں سو میں سے ایک بھی نہ ہوں یا ہزار میں سے ایک بھی نہ ہوں یا لا کھ میں سے ایک بھی نہ ہوں لیکن اگر تمہیں کہا جائے کہ خدا تمہیں کہتا ہے کہ ان مادی سامانوں کا مقابلہ مادی سامانوں سے کروتو تم ان کا مقابلہ کرو۔یہ ظاہری مادی طاقت جو بعض سر پھرے انسانوں کے ہاتھ میں ہمیں نظر آتی ہے اس کو نا کام کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے غیر مادی روحانی طاقتیں بھی پیدا کی ہیں اور یہی چیز ہے جو مومن مسلم انسان کی طاقت کو ثابت کرتی ہے لیکن اس وقت میں اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔غرض پہلے مفسرین نے بھی کہا ہے کہ جَاهِدُوا فِي سَبِيلِہ میں تینوں دشمنوں کا ذکر آتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی تینوں کی طرف اشارہ کیا ہے اور پہلوں سے بہت زیادہ تفصیل کے ساتھ اور بہت زیادہ حسن کے ساتھ اور بہت زیادہ مؤثر طریقے پر اور بہت زیادہ قائل کرنے والے بیان کے ساتھ دنیا کو بتایا ہے۔جَاهِدُوا میں جس دوسرے مخالف سے مقابلہ کرنے کا ذکر آتا ہے وہ ہے شیطانی کوششوں کا مقابلہ۔شیطان چھپی ہوئی راہوں سے آتا اور خدا کے دین کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے مثلاً پچھلے چودہ سو سال سے یہودی اور عیسائی اسلام کے خلاف وساوس پیدا کرنے کی انتہائی کوشش