خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 455
خطبات ناصر جلد ششم ۴۵۵ خطبہ جمعہ ۱۴ رمئی ۱۹۷۶ء کی جو پاکستان سے باہر رہنے والے ہیں اور بات کر رہے تھے آپ پاکستان کی جماعت ہائے احمدیہ کی تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح پاکستان کے احمدیوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال کی بڑھ چڑھ کر قربانی دی اُسی طرح بڑھ چڑھ کر باہر والوں نے بھی مالی میدان میں قربانی دی۔ابھی دو چار دن کی بات ہے غانا سے یہ رپورٹ آئی ہے کہ وہاں ایک جلسے کے موقع پر جو چندہ اکٹھا ہوا ہے (وہاں جلسوں کے موقعوں پر ہر جماعت کے عہدیدار اپنے چندے اکٹھے کرتے ہیں ) وہ اس سے پچھلے سال کے مقابلے میں ۳۰ فیصد سے بھی زیادہ تھا۔اسی طرح انگلستان کی جماعت ہائے احمدیہ کے چندوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔افریقہ کی ساری جماعتوں سے بھی یہی رپورٹیں آرہی ہیں پھر امریکہ ہے اس کی بھی یہی رپورٹ ہے یورپ کی جماعتوں کی بھی یہی رپورٹ ہے اور یہ تو میں نے بتایا ہے ہمارے جہاد کا ایک معمولی سا حصہ ہے دوسرے میدانوں کے بھی جہاد ہیں۔دوست خدمت دین کے لئے وقت دیتے ہیں اپنے بچوں کی تربیت کی طرف بھی توجہ دیتے ہیں تبلیغ کی طرف توجہ دے رہے ہیں۔ساری دنیا میں خدا کی راہ میں بڑی حقیر قربانیاں ہیں جو پیش کی جا رہی ہیں اور بڑی عظیم مقبولیت ہے جو ان قربانیوں کو حاصل ہو رہی ہے۔افریقہ میں بہت سی جگہوں پر بڑی بڑی مساجد گزشتہ سال بن گئیں یا زیر تعمیر آگئیں اور اگلے سال مکمل ہو جائیں گی۔خود پاکستان میں باوجود اس کے کہ بعض جگہ عقل سے دور جو روکیں ہیں وہ ہماری راہ میں حائل کی جارہی ہیں مگر خدا تعالیٰ توفیق دے رہا ہے اور خدا تعالیٰ کی اس پر توفیق کے نتیجہ میں جہاں جہاں ضرورتیں ہیں وہاں مساجد بن رہی ہیں۔مساجد کے متعلق اس وقت ضمنی طور پر بات آگئی ہے تو میں مختصر ابتا دوں کہ اصل مساجد وہ ہیں جن کے اندر مسجد کی روح پائی جاتی ہے اسی لئے قرآن کریم نے فرما یا لَمَسْجِدُ اسّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ (التوبة: ۱۰۸) یعنی وہ مسجد کہ جس کی پہلے دن سے تقویٰ پر بنیا د رکھی گئی ہے اور یہی تقوی مسجد کی رُوح ہے اس کے لئے منبر اور محراب گنبد اور مینار کی ضرورت نہیں ہے۔ہمارے لئے جو سب سے زیادہ مطہر اور مقدس مسجد ہے وہ وہ مسجد ہے جس میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ساری مدنی زندگی میں نمازیں پڑھتے رہے لیکن اس میں نہ کوئی محراب تھی