خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 454 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 454

خطبات ناصر جلد ششم ۴۵۴ خطبہ جمعہ ۱۴ مئی ۱۹۷۶ء قوت قدسیہ کے نتیجہ میں (جس کا پھیلاؤ قیامت تک ہے ) مہدی کے ذریعہ مخلصین کی ایک ایسی جماعت پیدا ہو چکی ہے جن کا قدم آگے ہی بڑھتا ہے کبھی ایک جگہ ٹھہرتانہیں پیچھے ہٹنے کا تو سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔غرض ۱۰ رمئی کو آمد والے حساب میں کھاتے بند ہوئے تو ہمیں پتہ لگا کہ گذشتہ سال کے مقابلہ میں یعنی مالی سال برائے ۷۵۔۱۹۷۴ ء کا جو بجٹ تھا اس کے مقابلہ میں قریباً ۲۰ فیصد سے بھی زیادہ آمدنی ہوئی ہے یہ ہے مخلصین کی جماعت جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اخلاص اور محبت کے ساتھ اور اس کی رضا کے حصول کے لئے اس میدان میں بھی اموال کی قربانی دے رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان قربانیوں کو قبول بھی کر رہا ہے کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے جو لوگ مالی قربانیاں دے رہے ہیں وہ نسبت کے لحاظ سے اگر چہ پہلے سال سے ۲۰ فیصد سے بھی زیادہ مالی قربانی دینے والے ہیں لیکن جو مالی سال گزرا اور دوستوں نے مالی قربانی دی تو اُن کی اس مالی قربانی کی قبولیت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل ہر پہلو سے جو ظاہر ہوئے ، وہ ۲۰ فیصد نہیں بلکہ اُن کی زیادتی کا کوئی شمار نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے ( دُنیا کی نگاہ میں اس دھتکاری ہوئی لیکن ) خدا کی نگاہ میں مقبول جماعت کی کوششوں میں اپنے فضل سے اتنی برکت رکھ دی کہ چاروں طرف ہمیں خدا کی رحمتوں کی بارشیں نازل ہوتی نظر آ رہی ہیں۔دنیا کے کونے کونے میں خدا تعالیٰ کے فضل موسلا دھار بارش کی طرح نازل ہوتے رہے اور یہ فضل بذات خود ایک زبر دست دلیل ہیں مہدی علیہ السلام کی صداقت کی اور جماعت احمدیہ کے مقبول عمل کی کہ کوئی دیندار جماعت اس کا انکار نہیں کرسکتی۔ایک مادی فضل اور رحمت اس مادی قربانی کے مقابلہ میں تو ہمیں یہ نظر آئی کہ جو پچھلے مالی سال کے شروع میں میں نے گوٹن برگ ( سویڈن ) میں جس مسجد کی بنیاد رکھی تھی اس پر قریباً ۲۰، ۲۵ لاکھ روپے خرچ کا اندازہ ہے وہ ایک سال کے اندر قریباً مکمل ہو گئی ہے۔اس کی بلڈنگ کی ۱۵ را پریل کی جو تصاویر میرے پاس پہنچی ہیں اور اس کے ساتھ جو ر پورٹ آئی ہے وہ یہ بتاتی ہے کہ چھتیں قریباً پڑ چکی ہیں اور خدا کے فضل سے یہ کام بڑی جلدی ختم ہونے والا ہے۔کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ آپ نے مثال دی اُن جماعت ہائے احمدیہ کی مقبول قربانیوں