خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 27
خطبات ناصر جلد ششم ۲۷ خطبہ جمعہ ۱۷؍ جنوری ۱۹۷۵ء سے حظ اٹھانے کے لئے ہی زبان پیدا نہیں کی گئی۔وہ بھی ضروری ہے کیونکہ زندگی اور اس کے قیام کے لئے کھانا پینا بھی ضروری ہے لیکن زبان کی لذت صرف یہی نہیں یہ بھی ایک چھوٹا سا حصہ ہے اس لذت کا جو زبان کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے اصل لذت وہ ہے جو انسان ذکر الہی سے حاصل کرتا ہے۔اسی طرح کان ہے۔دنیا بہک گئی۔سماع ایک محاورہ بن گیا۔عجیب لوگ ہیں کہ صرف گانے سن کر لذت حاصل کرتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ کی آواز جب کان میں پڑتی ہے تو جو لذت کان کے ذریعہ انسان حاصل کرتا ہے اس کا کروڑواں حصہ بھی انسان گانے سن کر حاصل نہیں کر سکتا۔ایک وہ لذت ہے جو وقتی اور چند منٹ کے بعد ختم ہو جاتی ہے اور ایک وہ لذت ہے جو انسان کی زندگی کو بدل دیتی ہے یعنی پیار کی آواز۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔آپ نے جس رنگ میں اور جس طور پر خدا تعالیٰ کی آواز کو سنا اور جو لذت آپ نے محسوس کی اُس کا آپ نے کئی جگہوں پر ذکر کیا ہے اس کو بچوں کے سامنے آنا چاہیے۔شاعر کی جو آواز گانے کے ذریعہ آتی ہے یہ قابل التفات اس لئے بھی نہیں کہ شاعر تو بہک جاتا ہے ایک مصرع میں ایک مضمون ہوتا ہے تو اگلے مصرع میں اس سے الٹ مضمون ہوتا ہے۔ایک شعر میں شمال کا مضمون تھا تو دوسرے میں جنوب کا شروع ہو گیا۔گویا شاعرانہ تخیل کے اندر ہمیں بالکل متضاد اور ایک دوسرے سے بعد رکھنے والے مضامین نظر آتے ہیں لیکن ایک وہ آواز ہے جو کان کے ذریعہ ہمیں لذت دیتی ہے اور اس آواز میں نہ کوئی تضاد ہے اور نہ یہ عارضی ہوتی ہے بلکہ مستقل طور پر ہمیشہ کے لئے ہے جب تک انسان اپنے مقام پر قائم رہے یہ آواز لذت پیدا کرتی رہتی ہے۔اسی طرح مثلاً ناک ہے وہ صرف خوشبو سونگھنے والا یا بد بومحسوس کرنے والا آلہ تو نہیں ہے انسان ناک سے بہت سی روحانی چیزیں سونگھتا ہے۔میرا ذاتی تجربہ ہے کہ ناک کہتا ہے کہ یہ چیز ہے یا یہ چیز نہیں ہے تو جیسا کہ یہ محاورہ بھی ہے کہ میں یہ Smell کرتا ہوں مثلاً دوسروں کی روحانی خوبیاں ہیں سوائے روحانی انسان کے دوسرے نے ابھی تک اس کو سمجھا ہی نہیں لیکن صرف خوشبو سونگھنے یا بد بو سونگھ کر اس سے بچنے کے لئے تو انسان کو ناک نہیں دیا گیا بلکہ اس کے بہت سے روحانی فوائد ہیں۔ہماری جتنی حسیں ہیں ان کی افادیت صرف مادی پہلوؤں