خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 28 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 28

خطبات ناصر جلد ششم ۲۸ خطبہ جمعہ ۱۷ / جنوری ۱۹۷۵ء تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ان کا اصل فائدہ یہ ہے کہ وہ ہمارے لئے روحانی طور پر لذت اور سرور کے سامان پیدا کرتی رہیں۔غرض خدا تعالیٰ کا جو پیار ہے وہ ایک راستہ سے تو ہم تک نہیں پہنچا وہ تو ہر راستہ سے ہم تک پہنچتا ہے۔بد بخت ہے وہ انسان جس کو ہر راہ سے پیار نہیں ملا اور اس سے بھی بد بخت ہے وہ نوجوان جواحمدیت میں پیدا ہوا اور خدا کے پیار سے محروم رہا۔اس کی ذمہ داری انصار اللہ پر ہے۔پس انصار اللہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور تربیت کا پروگرام بنا ئیں اور ہر ایک کو معرفت کے مقام پر کھڑا کرنے کی کوشش کریں۔ٹھیک ہے ہر ایک نے اپنی استعداد اور اپنی قوتوں کے مطابق اس معرفت کو حاصل کرنا ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ ہمارا ہر بچہ جو اپنے دائرہ استعداد کے اندر اپنے کمال کو نہیں پہنچتا وہ مظلوم ہے اور ہمارے اوپر اس کی ذمہ داری آتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں یہ تو فیق عطا فرمائے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ان کو ادا کریں۔اللہ تعالیٰ ہماری نوجوان نسل کو اور نئے آنے والوں کو یہ توفیق دے کہ وہ اپنے مقام کو سمجھیں جس طرح ایک اہلنے والی دیگ جس کے اُبلنے میں کچھ وقت لگتا ہے ایک دیگ جو اُبل رہی ہے وہ بعض دفعہ آدھے گھنٹہ میں یا گھنٹے میں اس درجہ حرارت کو پہنچتی ہے لیکن اُس اُبلتی ہوئی دیگ میں دو قطرے ٹھنڈے پانی کے ڈالو تو ایک سیکنڈ میں اُبلنے لگتی ہے۔اسی طرح ہمارے اندر بھی خدا تعالیٰ کی محبت اور پیار کی اتنی گرمی ہونی چاہیے کہ اس کے مقابلے میں اُبلتے ہوئے پانی کی کوئی گرمی نہ ہو۔باہر سے آنے والے ہمارے اندر شامل ہوتے ہیں یا ہماری جو نوجوان نسل ہے جب وہ بڑی ہو کر اپنی ذہنی اور روحانی بلوغت کو پہنچتی ہے تو جس طرح ایک سیکنڈ یا اس کے ہزارویں حصے میں ٹھنڈے پانی کا قطرہ ابلنے لگتا ہے (جو ابلتی دیگ میں ڈالا جائے ) اور حرارت کے بلند درجے کو پہنچ جاتا ہے اسی طرح یہ بھی خدا کی محبت اور پیار میں انتہائی طور پر گداز ہو جائیں۔پس ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر دو کو توفیق دے انصار اللہ کو بھی کہ وہ تربیت کی ذمہ داری کو نباہ سکیں اور نو جوانوں کو بھی کہ وہ اس تربیت کو قبول کر لیں اور سارے کے سارے بلا استثناء اس مقام تک پہنچ جائیں کہ وہ ہر پہلو سے معرفت الہی اور عرفانِ باری کو حاصل کر چکے ہوں اور وہ اس