خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 25
خطبات ناصر جلد ششم ۲۵ خطبہ جمعہ ۱۷؍ جنوری ۱۹۷۵ ء صفات کے متعلق ہمیں جو کچھ بتایا گیا ہے، وہ ہمیں بھول نہیں جانا چاہیے۔اسلام کی شرک سے مبرا تعلیم کے ہوتے ہوئے بعض لوگ قبروں پر سجدہ کرتے ہیں۔اسی قسم کی اور بھی بہت سی بدعات ہیں جو مسلمانوں کے اندر گھس آئی ہیں۔انسان اپنے مالک اور اپنے خالق اور اپنے رب کریم اور اپنے خدائے رحمان ، رحیم اور مالک یوم الدین کو بھول جاتا ہے اور راہِ ہدایت سے بھٹک جا تا ہے۔یہ بڑے فکر کی بات ہے۔پہلوں نے جو غلطی کی ، جماعت احمدیہ کو اس غلطی سے محفوظ رہنا چاہیے اسے محفوظ رکھنا چاہیے۔آنے والی نسلوں کے سامنے ایک تربیتی پروگرام کے ماتحت اسلام کی ابدی صداقتوں کو دہراتے چلے جانا چاہیے تا کہ وہ غلطی سے محفوظ رہیں۔بڑی دیر ہو گئی انصار اللہ سے میں نے باتیں نہیں کیں۔بدلے ہوئے حالات کے تقاضے بھی بڑے اہم ہو گئے ہیں۔ہم ایک نازک دور میں داخل ہو گئے ہیں اس لئے انصار اللہ کو چاہیے کہ وہ با قاعدہ ایک منصوبہ بنا ئیں۔اس منصوبہ کی تکمیل پر بے شک مہینہ دو مہینے لگا ئیں لیکن ایک جامع منصوبہ تیار ہو۔اگر ایک خاندان احمدی ہے تو اس ایک خاندان تک بھی قرآن عظیم کی عظیم صداقتیں پہنچ جائیں۔آپس میں تبادلہ خیالات کریں۔باتیں کریں اور سوچیں پہلوں نے اسلامی صداقتوں سے جو کچھ حاصل کیا اس کے متعلق غور کریں اور ان باتوں کو اتنادُ ہرا ئیں ، اتنا دہرائیں کہ وہ ذہن کا ایک حصہ بن جائیں، انسانی دماغ کا ایک جزو بن جائیں اور کوئی رخنہ باقی نہ رہے کہ جس کے ذریعہ شیطانی وساوس انسان کے دماغ میں داخل ہو سکیں۔امید ہے انصار اللہ اس اہم امر کی طرف توجہ کریں گے اور کوئی ٹھوس پروگرام بنانے سے پہلے مجھ سے مشورہ بھی کر لیں گے۔میں نے ہدایت دی تھی کہ کچھ کتابوں پر مشتمل لٹریچر شائع ہونا چاہیے۔کتابوں میں لٹریچر پڑا رہے تو یہ تو کوئی چیز نہیں، اسے سامنے آنا چاہیے۔اس کے متعلق تبادلہ خیالات کرنا چاہیے۔باتیں کرنا اور ایک دوسرے سے پوچھنا ضروری ہے کیونکہ اگر ہم ایسا نہ کریں تو بعض پہلو جہالت کی وجہ یا نا سمجھی کی وجہ سے یا شرم کی وجہ سے بعض دفعہ چھپے رہتے ہیں اور وہ بچوں اور نئے آنے والوں کے سامنے واضح ہو کر نہیں آتے۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ کتابوں کو پڑھنے کی ایک رو پیدا کر دینی چاہیے۔ایسی کتابیں ہوں جنہیں احباب ہر وقت