خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 24
خطبات ناصر جلد ششم ۲۴ خطبہ جمعہ ۱۷؍ جنوری ۱۹۷۵ء ایک نسل کے بعد دوسری نسل نے یہ صداقتیں بھلا دیں اور اُن کی طرف توجہ نہیں دی۔یہ کیسے ممکن ہوا؟ لیکن جب ہم اپنی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ عملاً یہ ممکن ہو گیا۔اللہ تعالیٰ کو ماننے والے عملاً بہت سی بدعات کا شکار ہو گئے اور یہ آج کی بات نہیں۔پچھلے چودہ سو سال میں ہزاروں لاکھوں مصلحین نے یہی اعلان کیا کہ صداقتیں تمہیں دی گئیں۔آسمان سے نور تمہارے او پر نازل ہوا پھر بھی تم اندھیروں میں جا چھپے اور وہ صداقتیں تم سے اوجھل ہو گئیں اور وہ معرفت اور عرفان جا تا رہا۔وہ محبت اور وہ عشق کا ماحول قائم نہ رہا۔ایک طرف اتنی عظیم صداقتیں ہیں۔اتنا عظیم محسن ہے اور دوسری طرف اُن کا نظر سے اوجھل ہو جانا بھی ایک ایسا واقعہ ہے کہ انسانی عقل اس کو تسلیم کرنے کے لئے تیار تو نہیں لیکن انسان کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ ایسا واقعہ ہو گیا۔اس لئے یہ بڑے خطرے کی بات ہے کہ ہم جو بڑے ہیں ہم جو انصار اللہ کہلاتے ہیں۔ہم اگر اپنے کام سے غافل ہو گئے اور اگر ہم نے اپنی ذمہ داریاں نہ نبا ہیں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ جو بعد میں آنے والی نسل ہے یا جو ان کے بعد آنے والی نسل ہے وہ کمزوری دکھائے اور اللہ تعالیٰ کے قہر کا مورد بن جائے حالانکہ اُن کو اس لئے پیدا کیا گیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیار کو پائیں۔خدا تعالیٰ نے جو فیصلہ کیا ہے وہ تو پورا ہوگا۔ہمیں اپنی اور اپنے بچوں کی اور اپنی نسلوں کی فکر کرنی چاہیے۔اس لئے میں انصار اللہ کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ہر جگہ جہاں ایک یا ایک سے زائد انصار پائے جاتے ہیں تربیتی ماحول پیدا کریں اور اپنے گھروں میں، اپنی مساجد میں، اپنے ڈیروں میں اور اپنی بیٹھکوں میں ان باتوں کو دُہرائیں۔اس شکل میں اور اس تفصیل کے ساتھ جو مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے رکھی ہیں اور یہ کوشش کریں کہ اس معرفت کے حصول کے بعد دوسروں کو بھی معرفت سکھائیں۔معرفت ایک تو خود اپنے لئے اُنس اور لگاؤ اور پیار پیدا کرتی ہے یعنی اعلی تعلیم خود اپنے حسن کی طرف کھینچتی ہے لیکن وہ تو ایک ذریعہ ہے، منزل تو نہیں وہ تو ایک راہ ہے خدا تعالیٰ کا پیار دلوں میں پیدا کرنے کے لئے۔پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو صداقتیں پیش کی ہیں قرآن کریم نے جو ہدا یتیں دی ہیں، وہ ہر ایک کے سامنے حاضر رہنی چاہئیں۔قرآن عظیم میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور