خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 397
خطبات ناصر جلد ششم ۳۹۷ خطبہ جمعہ ۱٫۹ پریل ۱۹۷۶ء طالب علم ہیں ان کی زندگی بڑی پیاری ہوتی ہے۔اس کے اندر کوئی تضاد نہیں پایا جاتا۔ایک مقصد ان کے سامنے ہوتا ہے اور اس کے حصول کے لئے وہ بڑے آرام سے پہلے دن سے ہی محنت کر رہے ہوتے ہیں۔ایشین ممالک کی یہ بدقسمتی ہے کہ ہمارے ماحول میں ہماری زندگیوں میں تضاد پیدا کیا جاتا ہے۔میں پرنسپل بھی رہا ہوں اور میں آکسفورڈ میں پڑھتا بھی رہا ہوں۔میں نے وہاں جو حالات دیکھے میری خواہش ہوتی تھی کہ حصول تعلیم کے متعلق اس طرح کے حالات یہاں ہمارے بچوں کے لئے بھی پیدا کئے جائیں۔اب ہمارے یہاں کے حالات یہ ہیں کہ ہوٹل میں ہمارا ایک بچہ رہتا ہے۔دھوبی اس کے کپڑے لے کر جاتا ہے جب وہ کپڑے دھو کر واپس لاتا ہے تو قمیص کے بٹن غائب ہوتے ہیں یا جو جواب صحیح سلامت تھی وہ پھٹی ہوئی ہوتی ہے۔بعض طبیعتیں ایسی ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ کیسے کپڑے واپس آئے۔چنانچہ انہیں کچھ وقت دھوبی سے جھگڑنے پر ضائع کرنا پڑتا ہے۔اگر اس نے دس منٹ بھی بات کی اور کہا کہ بھلے مانس آدمی تم نے کیا کیا ، میری بالکل نئی جراب تھی اور تم پھاڑ کر لے آئے ہو یا نئی قمیص تھی جو تم نے پھاڑ دی یا اس کے بٹن ضائع کر دیئے۔پھر ہوٹل میں اس کی بہن یا اس کی ماں یا اس کے عزیز تو نہیں بیٹھے ہوئے جو اس کے کپڑے سی دیں گے یا بٹن لگا دیں گے بلکہ اس کو خود وقت خرچ کر کے لگانے پڑیں گے۔غرض کچھ وقت اس نے دھوبی کے ساتھ بات کرتے ہوئے ضائع کیا اور کچھ وقت اس نے اپنے کپڑوں کو درست کرتے ہوئے ضائع کیا ، وہ تو ضائع ہو گیا۔اگر ہمارے ماحول کے یہ حالات نہ ہوتے تو وہ وقت بچ جاتا اور اگر وہ چاہتا تو اس وقت کو اپنی پڑھائی پر خرچ کر سکتا تھا۔آکسفورڈ میں مجھے کئی مہینے تک یہ پتہ نہیں لگا کہ کون کس وقت میرے کپڑے لے جاتا ہے اور کس وقت وہاں کپڑے واپس رکھ دیئے جاتے ہیں۔پتہ ہی نہیں لگتا تھا کیونکہ وہاں کمرے بند کرنے کا رواج نہیں ہے اور نہ ہمارے پاس چابیاں تھیں بلکہ بارہ بارہ ہفتے کی جو چھٹیاں ہیں ان میں بھی چیز میں اسی طرح چھوڑ کر کمرے کھلے چھوڑ کر چلے جاتے تھے۔ایک یہ خوبی بھی ہے کہ وہاں یہ خطرہ نہیں ہے کہ کوئی چیز گم ہو جائے گی اور اگر دھوبی کے ہاں پھٹی ہوئی جراب گئی ہے تو وہ رفو کر کے واپس دیں گے اور اگر