خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 396
خطبات ناصر جلد ششم ۳۹۶ خطبہ جمعہ ۱٫۹ پریل ۱۹۷۶ء ان کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اب بہت سارے ممالک میں لوگ ان کی نقل کرتے ہیں کیونکہ دنیوی لحاظ سے انہوں نے بڑی ترقی کی ہے۔چنانچہ اگر وہ مسلمان کہلاتے ہیں تو وہ قرآن کریم کا حوالہ دینے کی بجائے چیئر مین ماؤزے تنگ کا حوالہ دیتے ہیں حالانکہ قرآن کریم نے ایک نہایت لطیف پیرایہ میں اس مضمون کو بیان کیا ہے اور وہ اس طرح پر کہ (میں اس وقت مختصراً صرف اس کا ڈھانچہ یعنی Out Line بیان کروں گا ) قرآن کریم نے ہمیں کہا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کا رنگ اپنی صفات کے اوپر اور اپنی زندگی کے اوپر چڑھاؤ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی اس تعلیم کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ تَخَلَقُوا بِأَخْلَاقِ الله یعنی اخلاق اللہ جیسے خلق تمہارے اندر بھی ہونے چاہئیں۔قرآن کریم نے کہا ہے کہ جہاں خدا تعالیٰ کی اور بہت ساری صفات ہم نے انسان کے لئے بیان کی ہیں جن کا رنگ انسان کی فطرت کے مطابق اس کی طبیعت پر چڑھنا چاہیے وہاں ایک بنیادی چیز یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ان صفات میں جو قرآن کریم نے بیان کی ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی تمام صفات میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا۔اس واسطے اگر خدا تعالیٰ کے اخلاق کا رنگ اپنے خلق پر چڑھانا ہے تو ہماری زندگی میں بھی کوئی تضاد نہیں ہونا چاہیے۔ہماری زندگی بغیر تضاد کے، بغیر Contradiction کے خوب سے خوب تر بن کر گذرنی چاہیے یعنی جس طرح کلی سے گلاب کھلتا ہے اسی طرح بچے کی زندگی اپنے مرتے دم تک کھلنی چاہیے اور اس کے اندر کوئی تضاد نہیں پایا جانا چاہیے۔میں نے ایک دفعہ پہلے بھی کسی ضمن میں بتایا تھا کہ ہمارے ایک نو جوان کو یہ خواہش تھی کہ میں یو نیورسٹی میں اول آؤں لیکن اس خواہش کے مطابق نہ اس کی استعداد تھی اور نہ اس کی محنت تھی۔صرف خواہش کے نتیجہ میں تو اعلیٰ درجہ کی کامیابیاں نہیں ملا کرتیں بلکہ اس کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے۔ایسی محنت جو اس کامیابی کے مناسب حال ہو یعنی انسان کو خدا تعالیٰ نے عقل بھی اس کے مطابق دی ہو اور اس عقل کا استعمال بھی صحیح طور پر کیا گیا ہو۔وقت ضائع نہ ہو اور اپنی صحت کو قائم رکھتے ہوئے پوری توجہ کے ساتھ وہ محنت کی جائے اور کوئی تضاد نہ ہوتولڑ کا کا میاب ہو جائے گا۔میں نے دیکھا ہے کہ جو فرسٹ آنے والے طالب علم ہیں یا بہت اچھے نمبر لینے والے