خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 390
خطبات ناصر جلد ششم ۳۹۰ خطبہ جمعہ ۱/۲ پریل ۱۹۷۶ء محلوں کے نظام ہیں اور پھر سارے لاہور کا نظام ہے اس میں کا رکن وقت دے رہے ہیں۔ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں بھی کافی وقت دے رہے ہیں اور یہ بھی اَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ کے ماتحت ہی آجاتا ہے۔مومن جو کچھ خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں مال بھی اس کا ایک حصہ ہے اور اس میں بھی جماعت ہمیشہ ترقی کرتی ہے اور مجھے اس مہینے کے شروع میں ہمیشہ یہ کہنا پڑتا ہے کہ بیت المال والے گھبرائے ہوئے ہیں لیکن میں تو نہیں گھبرایا ہوا۔پچھلے سال میں نے فروری کے آخر میں خطبہ دیا تھا اور اس وقت مجوزہ بجٹ سے اٹھارہ لاکھ روپے کی کمی تھی اور جماعت نے اس اٹھارہ لاکھ سے کہیں زیادہ دے دیا اور اس وقت ساڑھے آٹھ لاکھ کے قریب کمی ہے۔میں اس لئے یہ خطبہ نہیں دے رہا کہ میں یہ بدظنی کرتا ہوں کہ جمات بجٹ سے آگے نہیں نکلے گی بلکہ اس لئے آج کا یہ خطبہ دے رہا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ڈرگز کا بھی حکم دیا ہے کہ میں یاد دہانی کراؤں۔پس میں اس نیت سے خطبہ دے رہا ہوں کہ میں اس وجہ سے بھی خدا تعالیٰ سے ثواب پانے کا مستحق ہو جاؤں۔ثواب تو جتنا ملے اور جس راہ سے بھی وہ انسان کو اکٹھا کرنا چاہیے۔پس مجھے یقین ہے کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے پچھلے سال کے مقابلے میں جمات بہر حال آگے بڑھے گی۔کچھ حصہ تو خود جماعت کے نمائندوں نے مجلس شوری کے موقع پر بڑھا دیا تھا اور اس سال کئی لاکھ روپیہ پچھلے سال کے بجٹ سے زیادہ ہے لیکن بجٹ کی حدود پر تو جماعت کبھی بھی نہیں ٹھہری۔ہمیشہ اس سے آگے بڑھتی ہے اور انشاء اللہ اس دفعہ بھی بڑھے گی اور جس طرح آگے بڑھ کر اس آیت کے حصہ کے مطابق جماعت خدا تعالیٰ کی خوشنودی کو حاصل کرنے والی ہو گی اسی طرح جو دوسری باتیں ہیں ان میں بھی وہ خدا تعالیٰ کی خوشنودی کو حاصل کرنے والی ہوگی اور انشاء اللہ تعالیٰ ان جنتوں کی وارث بنے گی کہ جن جنتوں میں صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے جگہ دی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر کچھ ہو نہیں سکتا اور خدا تعالیٰ کا فضل اس کے بتائے ہوئے طریق کے بغیر ہم حاصل نہیں کر سکتے۔پس جن راہوں سے خدا تعالیٰ کی رحمتوں کو حاصل کرنے کی قرآن کریم نے ہمیں ہدایت کی