خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 377
خطبات ناصر جلد ششم ۳۷۷ خطبہ جمعہ ۲۶ / مارچ ۱۹۷۶ء پریشانی دور ہوگئی ہے (اُس نے اپنی پریشانی کے متعلق کھل کر اظہار نہیں کیا تھا ) اب چونکہ آپ کی دعا سے میری پریشانی دور ہو گئی ہے اس لئے میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی رہے گی کہ میں آپ کو خط لکھتا رہوں تو آپ خواہ مخواہ میرے خط کے جواب میں پیسے نہ خرچ کیا کریں۔مجھے جواب دینے کی ضرورت نہیں میں اس پیار میں آپ کو خط لکھ دیا کروں گا۔میں نے دفتر والوں سے کہا یہ اس کا پیار ہے اور نوع انسانی کا جو پیار ہمارے دل میں ڈالا گیا ہے وہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کا ہر خط جو آئے اس کا جواب دیا جائے اس واسطے بے شک اس کا مطالبہ یہ ہے کہ جواب نہ دیا جایا کرے لیکن میری طرف سے جواب بہر حال جائے گا۔غرض اس وقت افریقہ اور دوسرے ملکوں سے بیبیوں خط آ جاتے ہیں اور لکھنے والا لکھتا ہے ہوں تو میں عیسائی لیکن مجھے پتہ لگا ہے کہ دعا ئیں آپ کی قبول ہوتی ہیں اس واسطے یہ میرا کام ہے۔آپ اس کے لئے دعا کریں۔کوئی کہتا ہے میں پڑھائی میں کمزور ہوں دعا کریں میں امتحان میں کامیاب ہو جاؤں۔کوئی لکھتا ہے میرے ہاں اولاد نہیں دعا کریں اللہ تعالیٰ بچہ عطا کرے کوئی کچھ لکھتا ہے اور کوئی کچھ جس طرح کی اُن کی ضرورتیں ہوتی ہیں، وہ مجھے لکھ بھیجتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کبھی اپنی منواتا ہے اور کبھی اسلام کی صداقت کے اظہار کے طور پر اپنے عاجز بندوں کی دعاؤں کو سنتا ہے اور اُن کے لئے نشان کے سامان پیدا کرتا ہے۔پس اگر چہ تاریخ بتاتی ہے کہ بعض دفعہ کسی کو مسلمان بنانے کے لئے بھی جبر کو استعمال کیا گیا لیکن در حقیقت اسلام میں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ایک اور جبر دین کے اندر ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ جبراً کسی کو کسی دین سے نکالا جائے مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں لیکن دوسرا کہتا ہے کہ نہیں تو کہہ کہ میں مسلمان نہیں ہوں ورنہ میں تیرا سر پھوڑ دوں گا اور جبر کی یہ شکل آج کل بڑی نمایاں ہو کر ہمارے سامنے آرہی ہے ایک شخص کہتا ہے کہ میں اُس اللہ پر ایمان لاتا ہوں جس کو قرآن کریم نے بیان کیا ہے کہ اس کی ذات ایسی ہے اور اس کی صفات ایسی ہیں لیکن کہتے ہیں نہیں! تم جھوٹ بولتے ہو ہم تمہیں ماریں گے اگر تم کہو گے کہ خدا ایک ہے۔تم کہو یا تو خدا کوئی نہیں یا یہ کہہ دو کہ تین خدا ہیں یا بت پرستوں کی طرح یہ کہہ دو کہ ہیں بہت سے خدا مگر ایک خدا پر