خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 346 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 346

خطبات ناصر جلد ششم ۳۴۶ خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۷۶ء انبیاء علیہم السلام کو بعض دفعہ منع بھی کیا جاتا ہے کہ دعا نہیں کرنی۔اسلامی تاریخ میں بعض بزرگوں اور مقربین کے متعلق آتا ہے کہ وہ ایسے وقت میں سوچ میں پڑ جاتے تھے کہ آیا یہ کوئی ابتلاء تو نہیں اور خدا تعالیٰ امتحان تو نہیں لینا چاہتا۔پھر وہ ابتلاء کے دور ہونے کی دعا نہیں مانگتے تھے بلکہ اس فکر میں رہتے تھے کہ وہ ثبات قدم دکھا ئیں اور تکلیف برداشت کر کے امتحان میں کامیاب ہوں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کریں۔یہ تو ایک ضمنی بات تھی جسے میں نے شروع میں بتا دیا ہے، اصل وہ تمہید ہے جسے میں دعا کا فلسفہ سمجھنے کے لئے بیان کر رہا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اسلام نے کس معنی میں قوانین قدرت یا اس کے مفہوم کو استعمال کیا ہے۔اسلام ہمیں یہ بتاتا ہے کہ جو کچھ اس عالمین میں نظر آتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے ہیں اور بس۔ان کو ہم آثارالصفات بھی کہتے ہیں مثلاً خدا تعالیٰ کی ایک صفت ہے خالق ہونے کی ، وہ خلق کر رہا ہے۔خدا تعالیٰ کی ایک صفت الحی ہے یعنی زندگی کو قائم رکھنے کی اگر اس صفت کا جلوہ ایک لحظہ کے لئے بھی اس کی مخلوق کے کسی حصہ سے علیحدہ ہو جائے تو اسی وقت وہ ختم ہو جاتا ہے اُس پر فنا آجاتی ہے۔اسی طرح بہت سی صفات کا ہمیں علم دیا گیا ہے اور بہت سی صفات کا ہمیں اس دنیا میں علم نہیں دیا گیا اور اس کی طرف قرآن کریم نے اشارہ بھی کیا ہے۔خدا تعالیٰ کی ہر صفت کے غیر محدود جلوے ہیں۔ان جلووں کے نتیجہ میں چیزیں پیدا ہوتی ہیں اور قائم رہتی ہیں۔اُن کے اندر جو خواص پائے جاتے ہیں وہ سب خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوؤں کا نتیجہ ہیں اس لئے ہم انہیں آثار الصفات کہتے ہیں۔اس عالمین کی ہر مخلوق اور ہر چیز آثار الصفات کے اندر بندھی ہوئی ہے یعنی خالی پیدائش ہی تو نہیں۔ایک بچہ پیدا ہوتا ہے پھر اس کو صحت اور تندرستی سے زندہ رکھنا ہوتا ہے کیونکہ خدا قیوم ہے پھر اس کی ربوبیت کے سامان پیدا کرنے ہوتے ہیں کیونکہ خدا رب العلمین ہے۔گویا انسان کی پیدائش کے وقت سے لے کر اس کے مرتے دم تک خدا تعالیٰ کی مختلف صفات کے جلوے اس کی زندگی میں نظر آتے ہیں۔مثلاً اگر رب العالمین کی صفت کے جلوے ظاہر نہ ہوں اور اس صفت کے آثار پیدا نہ ہوں تو کوئی ربوبیت نہ ہوگی۔یہ ایک لمبا مضمون ہے اور گہرا بھی ہے۔اس کے متعلق مختلف اوقات میں گفتگو ہوتی رہنی چاہیے۔اس وقت تو میں بطور تمہید کے بتا رہا ہوں کہ