خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 340 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 340

خطبات ناصر جلد ششم ۳۴۰ خطبہ جمعہ ۱۳ فروری ۱۹۷۶ء کہ قضا و قدر سے کوئی چیز باہر نہیں ہے یعنی تمام اسباب کا پیدا کرنے والا اور تمام علل کا پیدا کرنے والا بھی ہمارا خدا ہے۔روٹی بھوک دور نہیں کرتی اور نہ ہمیں طاقت دیتی ہے بلکہ خدا بھوک دور کرتا ہے اسی واسطے قرآن کریم بہت سے مقامات پر درمیانی واسطوں اور اسباب کا ذکر چھوڑ دیتا ہے اور اس پیدائش عالمین کی جو اصل حقیقت ہے وہ بیان کر جاتا ہے لیکن قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے اور قرآن کریم کی کسی آیت کی تفسیر پوری طرح سمجھنے کے لئے قرآن کریم پر ہی غور کرنا پڑے گا۔قرآن کریم خود اپنا مفسر ہے۔وہ دوسری جگہ بتائے گا کہ جہاں پر درمیانی واسطوں کا ذکر نہیں ہے وہاں خرابی پیدا کرنا مقصود نہیں بلکہ ایک نہایت حسین انفرادی زندگی اور ایک نہایت حسین اجتماعی معاشرہ پیدا کرنا مقصود ہے۔وہ انفرادی زندگی اور وہ اجتماعی معاشرہ جس کا ایک پختہ اور پکا اور صحیح اور حقیقی تعلق اپنے پیدا کرنے والے رب کے ساتھ ہو۔اس لئے خدا تعالیٰ بہت سے مقامات پر درمیانی واسطوں کا ذکر چھوڑ دیتا ہے اور ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ ہی اللہ ہے جیسے کہ ہم کہتے ہیں اور حقیقت یہی ہے کہ اللہ ہی اللہ۔باقی اس نے اسباب بھی پیدا کئے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ گھر سے تو کچھ نہ لائے۔اور یہی حقیقت ہے۔آج کے خطبہ میں کچھ اصطلاحیں بچوں کے لئے نسبتا ثقیل ہوں گی اس لئے میں بچوں کی زبان میں اسے پھر دہرا دیتا ہوں۔اللہ ایک ایسی عظیم ہستی ہے کہ جو اپنی ذات میں اور اس کے اندر جو طاقتیں ہیں ان میں بے نظیر اور بے مثل ہے اور سب کچھ اسی نے پیدا کیا ہے اور جو کچھ اس نے پیدا کیا ہے اس میں اس نے اپنی منشاء کے مطابق آہستہ آہستہ بڑھنے کے اصول کو مقرر کیا ہے۔اسے بچو ! تم بچے ہو اور اکثر سکولوں میں پڑھ رہے ہو پہلے تم پہلی جماعت میں جاتے ہو پھر دوسری میں پھر تیسری میں اور دسویں جماعت میں پہنچنے کے لئے تمہیں دس درجوں میں سے گذرنا پڑتا ہے۔یہ اصول کہ ایک قدم کے بعد دوسرا قدم اٹھتا ہے یہ تمہاری ترقی کا ذریعہ بنتا ہے۔یہ اصول ہمارے رب نے پیدا کیا ہے اور اس میں بہت سی حکمتیں ہیں۔اس میں اصل حکمت یہ ہے کہ انسان اپنی مرضی سے لیکن اس دائرہ اختیار میں کہ جو خدا نے ہمیں دیا ہے اپنے خدا کی طرف رجوع کر کے اس کے بے انتہا پیار کو حاصل کرے اور جس کو ہم قضا و قدر کہتے ہیں اس کا مطلب یہ