خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 341
خطبات ناصر جلد ششم ۳۴۱ خطبہ جمعہ ۱۳ فروری ۱۹۷۶ء ہے کہ اللہ نے ہمارے پیدا کرنے والے محبوب اور پیارے رب نے بہت ساری چیزیں بنائی ہیں جو کہ ایک میں سے دوسری نکلتی ہے جس طرح کہ گٹھلی میں سے درخت نکل آتا ہے اور درخت میں سے بہت ساری گٹھلیاں نکل آتی ہیں اور خدا تعالیٰ نے یہ انتظام کیا ہے کہ ایک سکول ماسٹر میں سے وہ بچے نکل آتے ہیں جو سکول میں پڑھ رہے ہوتے ہیں اور ان بچوں میں سے وہ استاد بن جاتے ہیں کہ جو سکول میں پڑھانے لگ جاتے ہیں۔یہ ایک چکر چلایا ہوا ہے لیکن چلا یا اللہ نے ہے یہ سب سامان ہیں۔خدا نے چھوٹے سامان بھی پیدا کئے ہیں اور بڑے سامان بھی پیدا کئے ہیں۔خدا نے ایسے سامان بھی پیدا کئے ہیں جو تھوڑی دیر کے لئے انسان کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں مثلاً دو چھٹانک آٹا جو کہ میں ایک کھانے میں کھاتا ہوں اس نے میری ایک بھوک ماری اور خدا تعالیٰ نے گندم کے اُگانے کا بھی سامان کیا ہے جو کہ بہت لمبا عرصہ چلتا ہے۔پس خدا تعالیٰ نے چھوٹے سامان بھی پیدا کئے اور بڑے سامان بھی پیدا کئے تھوڑے وقت کے لئے کام کرنے والے سامان بھی پیدا کئے اور ہزاروں لاکھوں سال تک کام کرنے والے سامان بھی پیدا کئے۔کم اثر رکھنے والے سامان بھی پیدا کئے اور بہت بڑا اثر رکھنے والے سامان بھی پیدا کئے جن کے ذریعے قومیں بڑی طاقتور ہو گئیں لیکن ہمیں اس نے یہ کہا کہ میں نے جو سامان پیدا کئے ہیں ان کی پرستش نہ کرنا اور ان کو خدا نہ سمجھ لینا بلکہ مجھے سمجھنے کی کوشش کرنا اور میری طرف رجوع کرنے کے لئے مجاہدہ کرنا۔پھر میں تمہیں ایسی جنتیں دوں گا کہ میرے پیار کے جو پھل ہیں ان کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی لذت اور کوئی شیرینی نہیں رکھی جا سکے گی۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو توحید خالص پر قائم ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ قضا و قدر کے متعلق میرا ابتدائی سبق یا درس ہے۔اس کے بعد ذہن میں تین اور چیزیں ہیں ایک تو یہ کہ پھر دعا کا کیا مطلب؟ دوسرے پھر عمل پر اجر اور ثواب کا کیا مطلب؟ اور تیسرے یہ کہ پھر محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جو اللہ دی مرضی ہوئی ہو جائے گا آرام نال سوئے رہو چادرتان کے۔اسلام یہ نہیں کہتا۔قضا وقدر کا جو مسئلہ ہے وہ نہ ہمیں کاہل اورست کرتا ہے اور نہ وہ ہمیں باندھ کر یہ کہتا ہے کہ ہم مجبور ہیں ہم کیا کریں۔بچہ شرارتیں کرتا