خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 13
خطبات ناصر جلد ششم ۱۳ خطبه جمعه ۱۰ / جنوری ۱۹۷۵ء کہ ہر وقت چوکس ہو کر ان باتوں کو بڑوں کے جنہوں نے ایک وقت میں سمجھا اُن کے سامنے بھی لانا چاہیے۔پس یہ پہلا سال پندرہ سالہ کوشش کا پہلا زینہ ہے جس میں ہم نے اپنے عقائد سے خود کو اور اپنے بھائیوں کو اور بچوں کو ماؤں کو اور بیویوں کو اور بیٹیوں کو اُن سے آگاہ کرنا ہے اور اس کے لئے ہمیں بڑی محنت کر کے کتاب میں لکھنی پڑیں گی۔اپنے تخیلات کے نتیجہ میں نہیں اور "Flight of Imagination" کے نتیجہ میں نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس رنگ میں روشنی ڈالی ہے اُس رنگ میں مدون کر کے اور اگر کہیں بچوں کی استعداد سے زیادہ علم ہو تو بچوں کو سمجھانے کے لئے بچوں والی زبان میں ان کو لا کر۔اس قسم کی کتابیں ہمیں لکھنی پڑیں گی اور اس سال میں جس میں ہم داخل ہو گئے اس سال میں ہم صد سالہ جو بلی کے لحاظ سے عنقریب داخل ہونے والے ہیں، ہمیں دو باتیں کرنی پڑیں گی۔اس سال کا ہمارا پروگرام یہ ہے ایک کتابیں تیار کرنا اور شائع کر دینا اور دوسرے ہر احمدی کے ہاتھ میں مختصر اصول سے متعلق ایک مختصر چھوٹی کتاب دے دینا ہے جسے وہ ہر وقت اپنے ساتھ رکھے اور پڑھے اور آپس میں تبادلہ خیال کرے اور ایک دوسرے کو سمجھائے۔اگلے سال جلسہ کے موقع پر انشاء اللہ تعالیٰ ہر آدمی اپنے بنیادی عقائد سے پوری طرح واقف ہو تا کہ وہ ان عقائد کی روشنی میں دوسروں سے تبادلہ خیال کر سکے۔مختصراً میں نے بتایا تھا کہ اللہ کے متعلق ہمارا کیا عقیدہ ہے مثلاً ایک بات میں نے یہ بتائی تھی کچھ نئی باتیں بھی اللہ تعالیٰ نے جلسہ کے موقع پر سکھائیں اور بہت سے بڑے بڑے سمجھدار ہمارے سکالرز (Scholars) جو ہیں ، انہوں نے مجھے کہا کہ آپ نے اس جلسہ سالانہ پر فلاں فلاں مسئلہ حل کر دیا لیکن اللہ تعالیٰ کے متعلق ہمارا صرف وہی ، اُس حد تک اس بیان میں محدود اصولی عقیدہ تو نہیں بلکہ بیسیوں شاید سینکٹروں اصولی باتیں ہیں جو ذات باری کے متعلق اس کے کامل اور پاک ہونے کی حیثیت سے جس کی وجہ سے ہم سُبحان اللہ کہتے ہیں اور اس کی ان صفات کی وجہ سے جن میں ہمیں اس کے