خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 306
خطبات ناصر جلد ششم ۳۰۶ خطبہ جمعہ ۲۳ /جنوری ۱۹۷۶ء کو سمجھنے والے ہوں۔قرآن کریم کی جو تفسیر بیان کی گئی ہے اُسے سمجھنے والے ہوں۔مہدی علیہ السلام عاشق رسول تھے۔آپ نے قرآن عظیم کا جو حسن اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جو حسن و احسان دیکھا اور جسے ہمارے سامنے بیان کیا وہ ہر وقت ہمارے ذہنوں میں حاضر رہنا چاہیے ورنہ تو احمدی بنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔محض زبانی ایمان کسی کا زبانی دعوی کرنا اس بات کا کہ وہ ایمان لاتا ہے اس کی تو کوئی اہمیت نہیں ہے ذراسی غفلت انسان کو کہیں سے کہیں لے جاتی ہے۔دیکھ لیں جماعت احمدیہ کا ایک حصہ جن کو ہم عام طور پر غیر مبائعین کہتے ہیں انہوں نے کہہ دیا ہم یہ تو مانتے ہیں لیکن وہ نہیں مانتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم و عدل قرار دیا ہے۔اس لئے جو بات میں کہوں وہ تمہیں ماننی پڑے گی اور جس کو میں کہوں یہ غلط بات ہے اس کو تمہیں چھوڑنا پڑے گا۔قرآن کریم کی جو تفسیر میں کروں اس کے مقابلہ میں اگر علماء امت کی دوسری تفاسیر آجائیں تو تمہیں ماننا پڑے گا کہ میری تفسیر صحیح ہے۔اگر کسی شخص نے کسی اور رنگ میں اس کے مخالف بات کی ہوگی تو وہ غلط ماننی پڑے گی جس حدیث کو میں کہوں کہ یہ حدیث صحیح ہے یعنی واقعہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے تمہیں ماننا پڑے گا کہ واقعہ میں ایسا ہی ہے اور اسی طرح جن احادیث کے متعلق میں کہوں کہ لوگوں نے بعد میں بنالی ہیں اور غلط طور پر منسوب کر دی ہیں ان سے تمہیں انکار کرنا پڑے گا۔پس یہ جو مختصر سی تمہید میں نے باندھی ہے اس کا یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ مہدی معہود علیہ السلام کو اس زمانے کا حکم و عدل ماننا ضروری ہے۔کئی دفعہ میں نے سوچا میں حیران ہوتا ہوں کہ بعض لوگ امام بخاری کو تو یہ حق دیتے ہیں کہ وہ کئی لاکھ احادیث کے متعلق یہ فتوی دیں کہ یہ احادیث صحیح نہیں۔اس لئے میں اپنی کتاب (یعنی بخاری شریف جو قرآن کریم کے بعد سب سے زیادہ صحیح اسلامی لٹریچر پر مشتمل کتاب سمجھی جاتی ہے اس میں شامل نہیں کروں گا کیونکہ میرے نزدیک یہ مشتبہ احادیث ہیں۔امام بخاری کا مقام تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی حدیث میں بیان نہیں ہوا۔لوگ اُن کو تو تنقید کا حق دیتے ہیں لیکن جس کا مقام احادیث میں بیان ہوا ہے کہ وہ حکم