خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 286 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 286

خطبات ناصر جلد ششم ۲۸۶ خطبہ جمعہ ۲ جنوری ۱۹۷۶ء لوگوں کے لئے اور ساری اُمت کے لئے بڑی کثرت سے دعائیں کی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑی بشارتیں دیں ہیں اور وہ نظام جو آپ کی اتباع کر کے اور آپ کے اسوہ پر چل کر اور قرآنی تعلیم کی اطاعت کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کا نظام ہے جسے ہم آپ کی قوت قدسیہ کہتے ہیں وہ نظام تو مردہ نہیں ہوا وہ آج بھی زندہ ہے کیونکہ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران : ۳۲) کی آواز جس طرح اس وقت کے لوگوں نے سنی تھی اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال کر اور یہ حکم بجالا کر خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کیا تھا۔یہ آیت قرآنی منسوخ تو نہیں ہو گئی بلکہ آج بھی یہ آواز اسی طرح آ رہی ہے۔آج بھی یہ ہمارے لئے ایک عمل کا پیغام دے رہی ہے اور آج بھی ہمارے لئے ایک بشارت دے رہی ہے۔خدا تعالیٰ کے پیار کے حصول کے دروازے آج بھی اسی طرح کھلے ہیں جس طرح پہلے کھلے تھے مگر اس کے لئے اُن قربانیوں کی ضرورت ہے جو پہلوں نے دیں اور پہلوں نے جو قربانیاں دیں جب ہم سوچتے ہیں تو ایک طرف تو اُن پر رشک پیدا ہوتا ہے اور دوسری طرف دل سے ان کے لئے بے حد دعائیں نکلتی ہیں۔وہی لوگ تھے جن کے متعلق ہم سمجھتے ہیں کہ یہ آیت پوری ہو چکی ہے اور اپنے متعلق تو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے انسان کو ہمیشہ خائف اور ترساں رہنا چاہیے لیکن انہوں نے واقع میں خدا تعالیٰ کی مرضات کے حصول کے لئے خدا کے حضور ا پنی جانیں بیچ دی تھیں۔اللہ تعالیٰ سے ایک سودا کیا تھا اپنا سب کچھ اس کے حضور پیش کر دیا تھا اور وہ خدا تعالیٰ کی ساری ہی رحمتوں کے وارث بن گئے تھے جن کا انسان اس دنیا میں وارث بن سکتا ہے۔جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑھ رہی ہے اور نئی جماعتیں قائم ہو رہی ہیں۔ابھی ہم ہیں پرانی جماعتوں کو بھی ان کی تعداد کے لحاظ سے پورے معلم نہیں دے سکے۔اس وقت جتنے معلم ہی اور ان پر جو خرچ ہورہا ہے اگر ہمارے معلموں کی تعداد بڑھ جائے اور اسی نسبت سے ان پر خرچ ہو یعنی ضرورت کے مطابق اگر ہم ہر جماعت میں ایک معلم رکھیں تو اس کام پر ہمیں ۳۰،۲۵لاکھ روپیہ خرچ کرنا پڑے گا موجودہ حالات میں وقف جدید اس بار کی متحمل نہیں ہوسکتی۔اس لئے آج میں وقف جدید کا ایک نیا دفتر ایک نیا باب کھولتا ہوں اور اس کا اعلان کرتا ہوں۔ہر جماعت کا ایک یا