خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 261
خطبات ناصر جلد ششم ۲۶۱ خطبہ جمعہ ۱۲ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء کی وہNeeds نہیں بلکہ حق کا لفظ استعمال کیا ہے۔اُن کی اصطلاح تو خود قابل اعتراض بنتی ہے جب کہ اسلام کی پیش کردہ تعلیم بڑی حسین ہے۔بہر حال یہ تفصیلی علم ہر احمدی کو ہونا چاہیے اور اسلام کی یہ تعلیم ہے جو دوسرے تمام مذاہب سے افضل ہے اپنے اکمل اور اتم ہونے کے لحاظ سے اور اس کے اندر کوئی نقص نہیں اور اس کا نظام ایسا ہے کہ قیامت تک مطہرین پیدا ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا ہے اس کو کوئی نہ مانے تو اس میں آپ کا یا میرا تو کوئی قصور نہیں۔قرآن کریم نے اعلان کیا ہے کہ قیامت تک مطہرین پیدا ہوں گے جو خدا تعالیٰ سے اسرار قرآنی سیکھ کر دنیا کو بتا ئیں گے۔اس زمانہ میں حضرت مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام نے تفصیل کے ساتھ یا پیج کی شکل میں قرآن کریم کی جو تفسیر کی ہے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی جو تشریح کی ہے وہ بار بار ذہنوں میں تازہ کرنے کے لئے ہر جگہ بیان ہونی چاہیے۔جہاں بھی دو احمدی مل بیٹھیں وہاں اس کا ذکر ہونا چاہیے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے محض علمی فضیلت اور اکملیت اور اتمام کافی نہیں جب تک یہ دوسرا حصہ جو اس کے متوازی چل رہا ہے اس کا ظہور نہ ہو یعنی اسلام کے انوار اور برکات اور معجزات ظاہر نہ ہوں۔آخر یہ بھی ایک معجزہ ہے اور بڑا زبردست معجزہ ہے۔اگر تم سوچو کہ ایک بارہ سال کے بچے کو سچی خواب آتی ہے اور یہ برکت اسلام سے حاصل کی۔ویسے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اسلام سے باہر بھی چونکہ خدا تعالیٰ اپنے سے دوری کو پسند نہیں کرتا اس لئے ان کو بتانے کے لئے کہ تم میرے قریب آ سکتے ہو ہر کس و ناکس کو خال خال سچی خواب آجاتی ہے لیکن اس کثرت کے ساتھ کہ مہینوں میں سچی خوابوں کے دفتر بھر جائیں۔خدا تعالیٰ کا یہ معاملہ صرف تعلیم قرآنی کی برکت سے اس گروہ کے ساتھ ہوتا ہے جس سے وہ پیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی پیار کی جو باتیں ہیں اُن میں سے ہر ایک بیان بھی نہیں کی جاسکتی۔اللہ تعالیٰ کے پیار کی بہت سی ایسی باتیں ہوتی ہیں حق کو آدمی عام طور پر بیان کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے لیکن ساری جماعت کو تقویٰ کے ذریعہ اس گروہ میں شامل ہونے کی کوشش کرنی چاہیے جو زندہ دلیل ہوں اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ اسلام میں انوار و برکات کا دریا بہاتا ہے اور اس کی برکتوں