خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 262 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 262

خطبات ناصر جلد ششم ۲۶۲ خطبه جمعه ۱۲ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء سے اگر انسان محروم ہے تو وہ اپنی ہی غفلت سے محروم ہے خدا تعالیٰ اسے محروم نہیں رکھنا چاہتا۔اب دیکھو یہ کتنی زبردست برکت ہے اسلام کی کہ ۱۹۷۴ء میں اتنا کچھ ہو گیا اور جماعت نے بحیثیت مجموعی یہ عہد کیا کہ ہم ان لوگوں کے لئے دعائیں کریں گے بد دعا نہیں کریں گے۔یہ اتناز بر دست معجزہ ہے کہ بعض افراد کو سمجھ ہی نہیں آرہی۔ہمارے پاکستان میں بڑے بڑے سمجھ دارلوگ کہتے ہیں ہمیں سمجھ نہیں آتی یہ کیسے ممکن ہو گیا ضرور بیچ میں کوئی بات ہے۔یہ ضرور والی بات تو پھر وہ کہانی ہو جائے گی جو دو دوستوں ایک اندھے اور ایک سو جاکھے کے درمیان کھانے پر واقع ہوئی تھی۔کہتے ہیں ایک نابینا اور بینا کی کسی نے دعوت کی چنانچہ جیسا کہ طریق ہے کہ پرات میں ان کے سامنے پلاؤ اور زردہ رکھا گیا اور آمنے سامنے بٹھا کر کھانا کھلانا شروع کیا۔جو نا بینا تھا اس کے دل میں بدظنی پیدا ہوئی کہ مجھے تو نظر نہیں آرہا معلوم ہوتا ہے اس نے مجھے محروم کرنے کے لئے دونوں ہاتھوں سے کھانا شروع کر دیا ہو گا (حالانکہ گلا تو ایک ہی ہے چاہے ہاتھ دو ہوں بہر حال ) جب نابینا کے دل میں بدظنی پیدا ہوئی تو اس نے دو ہاتھوں سے جلدی جلدی کھانا شروع کر دیا۔آنکھوں والا سمجھ گیا کہ اندھے کے دل میں بدظنی پیدا ہوگئی ہے چنانچہ اس نے کھانے سے ہاتھ اٹھالیا اور کھانا کھانا چھوڑ دیا اور چپ کر کے بیٹھ گیا کہ تماشا دیکھوں۔تھوڑی دیر دونوں ہاتھوں سے کھانے کے بعد نا بینے نے سوچا اوہو اس کو تو یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ میں نے بھی دونوں ہاتھوں سے کھانا شروع کر دیا ہے ضرور اس نے اپنی چادر پر ڈالنا شروع کر دیا ہوگا تو وہ اس کو کہنے لگا بس بھی کر میرے واسطے بھی تو کچھ رہنے دے۔پس جس طرح اس نا بینے کو سمجھ نہیں آ رہی تھی سو جا کھے کی شرافت کی اسی طرح بعض لوگ ہیں جن کو ہماری شرافت کی سمجھ نہیں آ رہی۔اس واسطے یہ بھی دعا کرو اُن کو ہماری شرافت کی سمجھ آ جائے۔بعض لوگ بڑے آرام سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ ہمارا دماغ نہیں مانتا آپ کے ساتھ ہم نے یہ کچھ کر دیا ہو اور پھر بھی آپ ہمارے لئے دعائیں کرنے والے ہوں۔اُن کو کیا معلوم ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال پہلے اس جماعت کے لئے دعائیں کی تھیں کہ یہ دنیا کے لئے سکھ کے سامان پیدا کرنے والی جماعت ہو۔یہ دنیا کے لئے ترقیات کے سامان پیدا کرنے والی جماعت ہو۔اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم