خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 256
خطبات ناصر جلد ششم ۲۵۶ خطبه جمعه ۱۲ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء بیان کئے ہیں یہ اسلام کے ہیں اُن کے تو دماغ میں بھی کبھی یہ نہیں آیا تھا۔اب جب احمدیت نے ان اصطلاحات اور ان باتوں کو بیان کرنا شروع کیا ہے تو احمدیت کی نقل میں اب باہر والوں نے بھی یہ کہنا شروع کر دیا ہے لیکن اس سے پہلے اُن کا جولٹریچر ہے مثلاً اشتراکیت ہے یہ بھی ایک ازم ہے اسے کمیونزم کہتے ہیں یا انسان کے دوسرے عقلی موقف ہیں ( موقف میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ وہ مذہب نہیں ہیں۔مذہب کا نام لینا بھی وہ پسند نہیں کرتے۔ہم اُن کو بد مذہب بھی نہیں کہہ سکتے ویسے دنیا میں بد مذاہب بھی ہیں لیکن ) اس وقت میری مراد وہ لا مذہب دماغ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اُن کی عقل اُن کی بھلائی کے سارے سامان پیدا کر سکتی ہے حالانکہ ہم یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اُن کی عقل اُن کی بھلائی کے سارے سامان پیدا کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور یہ مسئلہ محض علمی نہیں رہا بلکہ عملاً یہ ثابت کیا جاسکتا ہے۔بہر حال یہ تو ایک لمبی تفصیل ہے اس وقت میں یہ بات جماعت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ ہم جو مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لائے ہیں ہم اسلام کو اس معنی میں ایک سچا اور حقیقی مذہب مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو قیامت تک کے انسانوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے قائم کیا۔اس نے ہر زمانے اور ہر مکان کے جو مسائل ہیں ان کو سلجھانے کے لئے اور لوگوں کی رہنمائی کے لئے تعلیم دی ہے یہ ایک حقیقت ہے جس پر ہر ایک احمدی ایمان لاتا ہے۔دوسری چیز جو ہمارے ایمان کے مطابق بنیادی طور پر اسلام میں پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کی زندہ برکات کبھی ختم نہیں ہوتیں، کسی زمانہ میں بھی ختم نہیں ہوتیں۔اس کے انوار اور برکات اور انسان پر ظاہر ہونے والے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے معجزانہ جلوے کبھی ختم نہیں ہوتے۔علمی لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے انسان کا دماغ کچھ ایسا بنایا ہے کہ وہ سوفسطائی طریقوں پر سچی بات کو غلط بیان کرنے اور غلط تسلیم کر لینے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور پھر اگر کوئی سمجھدار آدمی اس کے حالات کے مطابق اُس سے بات کرے تو اس سے منوا بھی سکتا ہے یا اس کو خاموش بھی کروا سکتا ہے لیکن بہر حال جہاں تک بنیادی تعلیم کا سوال ہے عقل اس میں وسو سے ڈال سکتی ہے اور ڈالتی ہے۔اسی واسطے وسوسے ڈالنے والوں کی پناہ مانگنے کی دعا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں