خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 244
خطبات ناصر جلد ششم ۲۴۴ خطبہ جمعہ ۵؍دسمبر ۱۹۷۵ء اب ہمیں چاہیے کہ ہم ان کو دو کی بجائے چار درخت دے دیں اور دیں اسی چوک کے ارد گر در ہنے والے۔اور جیسا کہ میں نے اعلان کیا ہے کہ میں اور جماعت کوئی علیحدہ علیحدہ وجود نہیں ہیں بلکہ ایک ہی وجود کے دو نام ہیں اس لئے ان چار پودوں میں سے ایک پودا میں دوں گا اور تین کا آپ انتظام کریں۔میں اپنے آپ کو بھی جرمانہ کرتا ہوں نا کہ کیوں میں نے ایسا تربیتی ماحول پیدا نہیں کیا کہ ان درختوں کی حفاظت ہو سکے۔اللہ تعالیٰ مجھے معاف کرے اور اللہ تعالیٰ آپ کو بھی معاف کرے۔بعض دوستوں نے درختوں کا بڑا اچھا خیال رکھا ہے اور جنہوں نے درختوں کا خیال رکھا ہے ان کی طرف سے کبھی میرے پاس یہ شکایت پہنچ جاتی ہے کہ ہمارے مکانوں کے سامنے جو پیار سے پالے ہوئے درخت ہیں بعض لوگ آکر ان کو نقصان پہنچا جاتے ہیں۔یہ درخت تو خدا تعالیٰ کی ایک نعمت ہے۔قرآن کریم نے درخت کی حفاظت پر اتنا زور دیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک جنگ میں انسانی جان کی حفاظت کے لئے بعض درختوں کو کاٹنا پڑا تو قرآن کریم نے جو خدا تعالیٰ کی وحی ہے یہ ریکارڈ کیا کہ ہمارے ( خدا تعالیٰ کے حکم سے ایسا کیا گیا ہے۔پس خدا تعالیٰ کی مخلوق میں سے ہر ایک کی اپنی ایک شان ہے گو وہ ہماری خادم ہیں اور ان کے خدمت کے مقامات ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے ان کے کچھ حقوق بھی رکھے ہیں۔خدا تعالیٰ رَبُّ الْعلمين ہے قرآن کریم نے ہمارے سامنے جو پہلی صفت بیان کی ہے وہ رَبُّ العلمین کی صفت ہے۔اس میں جاندار اور غیر جاندار کے حقوق کا ذکر نہیں ہے بلکہ اس میں ہر مخلوق کے حقوق کا ذکر ہےاس Universe ( یو نیورس) میں، اس عالمین میں جو چیز بھی ہے اس کی ربوبیت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے لی ہے۔تو خدا تعالیٰ تو اس کی ربوبیت کر رہا ہو اور ربوبیت کے سامان پیدا کر رہا ہو اور انسان اس کے قوانین اور اس کے منشاء اور اس کے حکم اور سورۃ فاتحہ میں اس کے پہلے اعلان کے خلاف کھڑا ہو جائے! اور کہے کہ ہم درختوں کی ربوبیت نہیں کریں گے یا ہم فلاں چیز کی ربوبیت نہیں کریں گے ایک مومن کی اور ایک احمدی مسلمان کی تو یہ شان نہیں ہے۔ہمیں سارا سال یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ربوہ میں گندگی نہ ہو اور پاکیزگی اور طہارت کے