خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 234
خطبات ناصر جلد ششم ۲۳۴ خطبه جمعه ۲۸ / نومبر ۱۹۷۵ء میں خلاف ورزی کرنے والے ہو گے تو اللہ تعالیٰ کے غضب کو مول لینے والے بن جاؤ گے۔پس قرآن کریم کوئی معمولی دستاویز نہیں ہے یہ تو وہ شریعت حقہ کا ملہ ہے جس نے قیامت تک کے لئے انسانی مسائل کو حل کر کے ان کے لئے خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو کھولتے چلے جانا ہے اور روشن کرنا اور روشن رکھنا ہے۔اسلام محض زبان کا دعویٰ نہیں اسلام تو دلوں کو بدلتا اور روح کی کایا پلٹ دیتا ہے۔اندھیروں کو دور کر کے ان کی جگہ نور کو لے آتا ہے۔انسان کو شرف کے اس مقام پر لے جاتا ہے جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔اسلام انسان کو اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنا تا ہے اور اللہ تعالیٰ کے پیار کے اسے جلوے دکھاتا ہے۔ہر غیر اللہ سے اسے غنی کر دیتا ہے اور وہ مسلم جو حقیقی مسلم ہے صرف خدا کا ہو کر رہ جاتا ہے۔خدا کے فضل ، اس کی مدد اور اس کے حکم کے بغیر ایک آدمی اسلام پر کیسے قائم رہ سکتا ہے یا ایک انسان سے انسان کو اسلام کیسے مل سکتا ہے یہ تو ممکن ہی نہیں ہے۔غرض قرآن کریم نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اسلام کی متاع صرف اللہ تعالیٰ کے دربار سے ملتی ہے۔اسلام پر قائم رہنا صرف اس صورت میں ممکن ہے جب اللہ تعالیٰ انسان کا ہاتھ پکڑے اور اس کو بھٹکنے سے محفوظ کر دے۔یہ کسی انسان یا انسانوں کا بنایا ہوا قانون نہیں ہے جس میں ہر روز ترامیم ہوتی رہتی ہیں کبھی اچھی اور کبھی بری ، یہ تو ایک قائم رہنے والی صداقت ہے اور ایک ایسی حقیقت ہے جس کے اندر کوئی رخنہ راہ نہیں پاسکتا اور انسان کسی کو اسلام دے بھی کیسے سکتا ہے کیونکہ اسلام محض ذمہ داریوں کا نام نہیں محض کچھ حقوق ہی تو نہیں جن کی ادائیگی کے لئے کہا گیا ہو اور بس۔اسلام محض اپنی دنیوی زندگیوں کو ایک خاص دنیا دارانہ نبج میں ڈھالنے کا نام تو نہیں۔اسلام ایک مکمل لائحہ عمل ہے یہ ہماری ہر حرکت اور ہر سکون کو ایک خاص راہ پر لے آتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر تم اسلامی احکام شریعت قرآنیہ کے مطابق بجالاؤ گے تو تمہیں اجر ملے گا۔گویا اسلام ایک ایسے مجموعہ احکام کا نام ہے جن کی بجا آوری کے بعد اجر ملتا ہے اور قرآن کریم نے دوسری حقیقت یہ بتائی ہے کہ جو آدمی اسلام پر عمل کرتا ہے اسے اجر سوائے خدا کے گھر کے کسی اور گھر سے مل ہی نہیں سکتا فرمایا۔بلی مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةٌ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ (البقرة : ۱۱۳)