خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 210
خطبات ناصر جلد ششم ۲۱۰ خطبه جمعه ۱۴ / نومبر ۱۹۷۵ء اس کے بھی باہر سے کئی رشتہ دار آ جاتے ہیں تو یہ کمزوری نہیں دکھاتا اور یہ نہیں کہتا کہ جلسہ کے مہمان اس کے گھر نہ ٹھہریں بلکہ بعض دفعہ تو اس سے الٹ ہو جاتا ہے۔میں افسر جلسہ سالا نہ تھا ایک دفعہ مجھے یہ رپورٹ ملی کہ فلاں شخص کا اتنے x اتنے کا کمرہ ہے اور وہ سو آدمیوں کی روٹی لے کر گیا ہے۔وہ آدمی بظاہر کمزور ہی تھا۔میں نے کہا پتہ کرنا چاہیے کہیں ضیاع تو نہیں ہو رہا ہے۔چنانچہ جب میں نے چیک کروایا تو پتہ لگا کہ سو سے بھی زیادہ آدمی ٹھہرے ہوئے ہیں۔خدا جانے اس کمرے میں وہ سو آدمی کس طرح رہتے تھے۔پس آنے والے بھی اور یہاں والے بھی بڑی قربانی کرتے ہیں۔اس سے انکار نہیں لیکن میں یہ چاہتا ہوں اور میرے دل میں یہ خواہش ہے کہ ربوہ کے دوست جتنی قربانی کرتے ہیں اس سے زیادہ کریں تا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جتنے فضلوں کے وہ وارث ہوتے ہیں اس سے زیادہ فضلوں کے وارث بنیں۔یہ میری آپ کے لئے خواہش ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ بڑی اچھی خواہش ہے اور میں دعا کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ دوستوں کو میری اس خواہش کے پورا کرنے کی توفیق عطا کرے۔جلسہ سالانہ کا جو نظام ہے اسے ہر سال پہلے سے بہتر ہونا چاہیے اور ہے مگر کچھ چیزیں تو ایسی ہیں جن کا علم تجر بہ سکھاتا ہے مثلاً جب مجھے پہلی دفعہ افسر جلسہ سالانہ مقرر کیا گیا تو مجھے تو پتہ نہیں تھا کہ دال کی دیگ کا نسخہ کیا ہے یعنی ایک دیگ میں دال کتنی پڑتی ہے اس میں کتنا نمک، کتنی ہلدی اور مرچ پڑتی ہے کتنا مسالہ اور کتنا گھی پڑتا ہے وغیرہ وغیرہ۔چنانچہ اس وقت اجناس کے جو افسر تھے اور کئی سال سے کام کرتے چلے آرہے تھے۔میں نے ان سے پوچھا تم بتاؤ ، کہنے لگے مجھے تو پتہ نہیں۔میں نے کہا پھر تم کیا کرتے ہو؟ کہنے لگے بس دیگیں پکانے والے جو چیزیں مانگتے ہیں وہ ہم دے دیتے ہیں۔میں نے کہا یہ تو ٹھیک نہیں۔چنانچہ میں نے قادیان لکھا۔انہوں نے دیگوں کے نسخے بھجوائے تو ایک عجیب بات معلوم ہوئی کہ قادیان میں دال کی دیگ میں جتنا نمک پڑتا ہے اتنی ہی دال جور بوہ میں پکتی ہے اس میں کم نمک پڑتا ہے۔یہاں کا پانی نمکین ہے یا کیا بات ہے بہر حال فرق ہے۔اسی طرح مرچ وغیرہ میں بھی فرق نظر آیا۔یہاں کے تجربے کے مطابق یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھ دیا گیا۔پھر میں نے اخبار میں اشتہار دینا شروع کیا اور یہ