خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 211 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 211

خطبات ناصر جلد ششم ۲۱۱ خطبه جمعه ۱۴ / نومبر ۱۹۷۵ء سلسلہ کئی سال تک جاری رہا کہ جس دوست کے دماغ میں جو چیز آئے وہ ہمیں لکھ بھیجے وہ اعتراض نہیں ہو گا وہ مشورہ ہو گا اور افسر کا کام ہے کہ وہ مشورہ طلب کرے اور اس سے فائدہ اٹھائے کسی نے لکھا آپ جو چیز نیچے بچھاتے ہیں (دب) وہ بہت تکلیف دیتی ہے۔دراصل ان دنوں بوجوں والی گھاس کاٹ کاٹ کر نیچے بچھا دیا کرتے تھے کیونکہ اس زمانے میں اس علاقے میں چاول کی فصل نہیں ہوتی تھی۔یہ تو جلسہ سالانہ کے مہمانوں کو آرام پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے زمین کو کہا یہاں چاول اگا۔ورنہ پہلے تو یہاں چاول نہیں ہوتا تھا غرض کسی دوست نے لکھا کہ یہ تکلیف ہے کسی نے لکھا وہ تکلیف ہے کسی دوست نے مشورہ دیا کہ یہ انتظام ٹھیک ہونا چاہیے اور کسی نے کہا وہ انتظام ٹھیک ہونا چاہیے۔یہ سب مشورے بھی اسی رجسٹر میں لکھے جاتے تھے جو بعد میں لال کتاب“ کے نام سے مشہور ہو گئی۔پھر اسی کتاب میں Forecast کا طریقہ بھی درج کیا گیا اور وہ یہ تھا کہ پچھلے سال سے دس فیصد زیادہ مہمانوں کے لئے صبح و شام اتنی دیگیں زیادہ لگیں گی ، اتنا آٹا زیادہ ہوگا ، اتنا گوشت کا اندازہ ہے، اتنا گھی ، اتنی دال، اتنا نمک اور اتنی مرچ زیادہ پڑے گی۔غرض ایک ایک چیز کے اندازے جولائی اگست اور ستمبر میں تیار ہو جاتے ہیں اور پھر اس کے مطابق اشیاء خریدنی پڑتی ہیں اور یہ ایک بڑی اچھی چیز ہے جو تجربے سے حاصل ہوتی ہیں لیکن تجربے کا میدان ہر جلسہ پر کھلا ہوتا ہے بلکہ میں تو کہتا ہوں ہر روز کھلا ہوتا ہے۔انسان اپنی زندگی کے ہر لمحہ میں علم حاصل کرتا ہے اپنے ماحول سے، اپنے گرد و پیش سے، اپنے دوستوں کے تجربات سے اور خود اپنے تجربات سے۔پس جتنے مہمان پچھلے سال آئے تھے اس سال اس سے زیادہ مہمان آئیں گے انشاء اللہ۔اس لئے جلسہ کا انتظام پہلے سے بہتر ہونا چاہیے۔اسی طرح ہمیں امید ہے کہ ملکی انتظامیہ نے پچھلے سال جتنا انتظام کیا تھا اس سال ان کا انتظام پہلے سے بھی اچھا ہو گا۔ان کا ہمارے ساتھ تعاون اچھا ہو گا ہمارا ان کے ساتھ تعاون اچھا ہوگا۔ایک دوسرے کو آپس میں ہزا ر ضرورتیں پیش آتی ہیں۔وہ بھی باہر سے آتے ہیں ان کو ہزار تکلیفیں ہوتی ہیں۔ان کا خیال رکھنا چاہیے۔ان کو ہمارا خیال رکھنا چاہیے۔دونوں طرف سے بات چلتی ہے لیکن بہر حال ایک چیز تو واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ ہماری کسی سے لڑائی نہیں ہے نہ