خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 209
خطبات ناصر جلد ششم ۲۰۹ خطبه جمعه ۱۴ / نومبر ۱۹۷۵ء ذاتی طور پر جانتا تھا کہ وہ لکھ پتی تھے یا اس سے بھی زیادہ امیر تھے انہوں نے ہاتھ میں ایک بکس پکڑا ہوا تھا اور ساتھ ان کی بیوی تھی۔وہ اڈے کی طرف سے چلے آرہے تھے میں سمجھ گیا کہ یہ تو ابھی پہنچے ہیں۔میں نے ان سے پوچھا آپ کے لئے رہائش کی کوئی جگہ مقرر ہے۔کہنے لگے نہیں اب جا کر تلاش کروں گا۔میں نے سوچا کہ یہ اب کہاں سے تلاش کریں گے جتنے دوستوں نے ہم سے رہائش گا ہیں مانگی تھیں اس سے کم اہل ربوہ نے ہمیں دی ہیں۔بہت سے دوستوں کو انکار کرنا پڑا ہے اس لئے اس وقت جبکہ جلسہ شروع ہو چکا ہے ان کو کون رہائش گاہ دے گا۔افسر مکانات تو ان کو کوئی رہائش گاہ نہیں دے سکیں گے۔میں نے ان سے کہا آئیے میں آپ کے لئے کوشش کرتا ہوں۔میں اپنے گھروں میں ایک جگہ گیا۔گھر والوں سے پوچھا کوئی کمرہ یا کوئی ڈریسنگ روم خالی ہومگر پتہ لگا کوئی بھی خالی نہیں۔پھر ہم دوسرے گھر میں گئے حتی کہ تیسرے گھر میں تلاش کرتے کرتے ایک جگہ ایک چھوٹا ساغسل خانہ ٹائپ کمرہ تھا جس میں گھر والوں کی کچھ چیزیں پڑی ہوئی تھیں۔میں نے کہا کیا یہ کمرہ آپ کے لئے ٹھیک ہے؟ کہنے لگے بڑا اچھا ہے۔الحمد للہ ہم اس میں بڑے آرام سے رہیں گے۔میں نے وہ کمرہ خالی کروایا۔دَب کی ایک پنڈ منگوائی (ان دنوں بوجوں والی گھاس ہوا کرتی تھی یعنی آب جو بڑی چھتی تھی ) اور وہاں ڈلوا دی۔اب دیکھو وہ دوست جو لاکھوں روپے کے مالک تھے اور ہر سال لاکھوں کماتے تھے وہ اس چھوٹے سے کمرے میں بڑے آرام سے رہنے لگے اور بڑے ممنون ہوئے۔مہمانوں کی ممنونیت کا یہ اظہار یہاں کام کرنے والوں کی گردنیں جھکا دیتا ہے یہ سوچ کر کہ ہم نے ان کی کیا خدمت کی ہے جو اتنے ممنون ہورہے ہیں لیکن بہر حال جیسا کہ میں نے بتایا ہے دونوں طرف سے ایک ایسا جذبہ دیکھنے میں آتا ہے جسے دنیا پہچان نہیں سکتی۔پس اہل ربوہ کو چاہیے کہ جتنے مکان بھی وہ دے سکتے ہوں یا مکانوں کے کوئی سے جو حصے دے سکتے ہوں ، وہ دیں۔بیشک ۸ × ۸ یا ۶ × ۸ کا کوئی کمرہ یا کوئی اسٹور جو بھی فارغ کر سکتے ہوں وہ اپنے مہمانوں کے علاوہ نظام سلسلہ کے ماتحت ٹھہر نے والے مہمانوں کے لئے فارغ کر دیں تاکہ زیادہ سے زیادہ احمدی خاندانوں کو اس سے سہولت بہم پہنچائی جا سکے۔یہ صحیح ہے کہ ربوہ کا ہر گھر مہمانوں سے بھرا ہوا ہوتا ہے کیونکہ جو کمز ور احمدی ہے