خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 204
خطبات ناصر جلد ششم ۲۰۴ خطبه جمعه ۱۴ / نومبر ۱۹۷۵ء تو کہہ دیا تھا کہ مسجد میں جلسہ کر لو۔بہر حال جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا اور اس کے نتیجہ میں مجھے جو ذہنی کوفت اٹھانی پڑی ہے وہ تو اٹھانی پڑ گئی۔اب اس کے تدارک کے لئے ایک صورت یہ ہے کہ یہ مجالس اپنے اپنے منسوخ شدہ اجتماع کو ملتوی سمجھیں اور اگلے سال قانون کے اندر رہتے ہوئے اور افسران علاقہ کی فراست پر بدظنی نہ کرتے ہوئے یہ اجتماع بھی کریں اور آئندہ سال کے اجتماع بھی کریں۔اس کا ایک برا نتیجہ یہ نکلا کہ بعض لوگ پوچھتے ہیں کیا جلسہ سالا نہ ہو گا یا وہ بھی نہیں ہوگا؟ ایسے وہی دماغوں کے لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ انشاء اللہ جلسہ سالا نہ ہوگا وَعَلَى اللهِ نَتَوَكَّلُ اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے ملک کی انتظامیہ پر بدظنی کریں۔گزشتہ سال بہت سے لوگوں کا خیال تھا که شاید جلسہ نہ ہو اور بہت سے مخلص احمدیوں کی یہ رائے تھی کہ جلسہ نہیں ہونا چاہیے اور پھر جب میں نے کہا جلسہ تو ہو گا، کیوں نہیں کرنا چاہیے؟ تو پھر بعض دوستوں نے مجھے یہ مشورہ دیا کہ اچھا اگر آپ نے جلسہ کرنا ہی ہے تو یہ اعلان کر دیں کہ دس پندرہ ہزار سے زیادہ آدمی یہاں جلسہ پر نہ آئیں۔میں نے کہا اگر میں ایسا اعلان کر بھی دوں تو میں اس کی تعمیل کیسے کرواؤں گا۔بہر حال ہم چونکہ اللہ تعالیٰ پر توکل رکھتے ہیں اور چونکہ ہمیں حسن ظن سے کام لینے کی تعلیم دی گئی ہے ہمارے خدا تعالیٰ نے ، قرآنی شریعت نے ، حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ اور قول نے ہمیں حسن ظن کی تعلیم دی ہے اس لئے ہم حکومت وقت پر بھی حسن ظن رکھتے ہیں سوائے اس کے کہ ان کا کوئی فعل ہمارے حسن ظن کو مجروح کر دے اس کی ذمہ داری تو ان پر ہے ہم خدا کی نگاہ میں گناہ گار کیوں ہوں۔اس لئے میں دنیا کے ہر احمدی کو یہ بتانا چاہتا ہوں (اللہ تعالیٰ پر تو گل کرتے ہوئے ، اسی پر بھروسہ رکھتے ہوئے اور اپنی حکومت پر حسن ظن رکھتے ہوئے ) کہ انشاء اللہ جلسہ سالا نہ اپنی مقررہ تاریخوں میں ہوگا۔گزشتہ سال چونکہ حالات اس سے بھی زیادہ مختلف تھے جو سال رواں میں رہے یا آجکل ہیں۔اس لئے بڑی مہربانی سے انتظامیہ کے بہت سے شعبوں نے بڑا اچھا تعاون بھی کیا۔ان کی جو ذمہ داریاں تھیں ان کو نباہنے کی بھی انہوں نے کوشش کی۔اب تو ان کو ہمارا جلسہ کروانے کا اچھی طرح تجربہ بھی ہو چکا ہے۔پچھلے سال تو تجربہ