خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 184 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 184

خطبات ناصر جلد ششم ۱۸۴ خطبه جمعه ۳۱/اکتوبر ۱۹۷۵ء ویسے بھی وہی مالک ہے لیکن اس پہلو سے بھی وہی مالک ہے کیونکہ وہ فرماتا ہے۔اَنَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللهِ اَحَدًا اس کی رو سے ہر موحد کے لئے مسجد کا دروازہ کھلا ہے۔اگلا حصہ بتا تا ہے کہ صرف ایک شرط ہے نیک نیتی سے آنا ہے شرارت کی نیت سے نہیں آنا۔میں تو ایک درویش انسان ہوں۔اس قرآنی آیت کا یہ اثر ہوا کہ سینکڑوں عیسائی جو افتتاح کے وقت موجود تھے نماز میں شامل ہو گئے۔یہ ٹھیک ہے کہ جب ہم رکوع کرتے تھے تو وہ ادھر ادھر دیکھ لیتے تھے کہ یہ رکوع کس طرح کرتے ہیں تو انہوں نے رکوع بھی کیا۔جب ہم سجدہ کرتے تھے تو وہ ادھر ادھر دیکھ لیتے تھے کہ ہم سجدہ کس طرح کرتے ہیں لیکن انہوں نے ہمارے ساتھ سجدہ کیا اور اس طرح وہ اسلامی عبادت میں شامل ہو گئے۔چنانچہ اس وقت تک دس ہزار سے زیادہ غیر مسلم اسلامی عبادت میں شامل ہو چکے ہیں یعنی اگر وہ ایسے وقت میں مسجد دیکھنے کے لئے آئے کہ نماز ہو رہی تھی تو وہ بھی نماز میں شامل ہو گئے کیونکہ جب اس کا افتتاح ہوا تھا تو اس وقت ملک کے ہر اخبار اور رسالے نے افتتاح کی خبر کو Cover کیا تھا اور خبریں دی تھیں۔چنانچہ وہاں کے روزانہ اور ہفتہ وار اور ماہانہ اخبارات و رسائل کے ۱۸۵ تراشے ہمارے پاس پہنچے تھے۔درجنوں اخبار تھے جنہوں نے پورا صفحہ دیا تھا اور بیسیوں تھے جنہوں نے آدھا صفحہ دیا تھا گویا بہت زیادہ پبلسٹی ہوئی تھی اور اس چیز کو تو اُن کی روح نے قبول کیا کہ اچھا یہ ایسا گھر ہے۔چنانچہ ہمارے دوست نے وہاں کے متعلقہ افسران سے کہا کہ ہماری مسجد تو ایسی ہے لیکن یہ جو مطالبہ کر رہے ہیں ان کی تو اپنی مسجدیں علیحدہ ہیں۔یہ ہمیں نماز نہیں پڑھنے دیں گے۔آپ ان سے پوچھ لیں اور ہمارے لئے تو ہر آدمی جو نیک نیتی سے آتا ہے اس کے لئے مسجد کے دروازے کھلے ہیں۔ٹھیک ہے شرارت کرنے والے کے لئے منع ہے۔شرارت خدا کا گھر کیا ایک عاجز اور غریب آدمی کے گھر میں بھی شرارت کی نیت سے کوئی نہیں گھس سکتا۔چنانچہ ان کو یہ بات سمجھ آ گئی۔پس یہ بھی خدا کے فضل کے نشان ہیں جو اس مسجد کے سلسلہ میں رونما ہوئے۔دوست دعا ئیں کریں اللہ تعالیٰ اسے برکتوں والی مسجد بنائے اور یہ کمسجد أيْسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ (التوبة : ۱۰۸) کی مصداق ہو اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد نبوی کی طفیلی مسجد ہو کیونکہ جہاں تک مسجد کا تعلق ہے تمام برکتیں مسجد نبوی سے آگے نکلتی ہیں۔