خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 164
خطبات ناصر جلد ششم ۱۶۴ خطبه جمعه ۱۰ /اکتوبر ۱۹۷۵ء نظر رکھے کہ مستقبل کے لئے وہ کیا کر رہا ہے اس میں شک نہیں کہ انسان کا ماضی سے گہرا تعلق ہے اور ہم اسے چھوڑ نہیں سکتے۔اس کا لحاظ رکھنا، اسے فراموش نہ ہونے دینا بھی ضروری ہے لیکن ماضی سے زیادہ جو چیز انسان سے تعلق رکھتی ہے وہ حال کا زمانہ ہے یاوہ زمانہ ہے جو لمحہ بہ لمحہ مستقبل سے حال میں تبدیل ہوتا چلا جاتا ہے۔مستقبل کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس نے کبھی آنا ہی نہ ہو اور وہ ہمیشہ مستقبل ہی رہے۔جو چیز مستقبل سے حال میں بدلتی چلی جاتی ہے جب تک وہ حال میں نہ بدلے ہم اسے مستقبل کہتے ہیں مستقبل اپنی ذات میں دائمی حیثیت کا حامل نہیں ہوتا۔وہ نہ صرف یہ کہ حال میں تبدیل ہو کر رہتا ہے بلکہ لمحہ بہ لمحہ حال میں تبدیل ہور ہا ہوتا ہے۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مستقبل ہمارے حال کی تعمیل کرنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا یہ ہے کہ انسان کو تقویٰ اللہ پر قائم ہو کر مضبوطی سے ایسے مقام پر کھڑا ہونا چاہیے کہ اسے یہ اطمینان حاصل ہو سکے کہ میرا مستقبل جو کچھ بھی ہے جیسے جیسے وہ حال میں تبدیل ہوگا وہ میرے لئے دکھ کا نہیں سکھ کا موجب ہوگا۔یہ تو اس زندگی کی کیفیت ہے جو ہم اس دنیا میں گزارتے ہیں۔یہاں مستقبل لمحہ بہ لمحہ حال میں تبدیل ہورہا ہوتا ہے اور ہمیں یہ تاکید کی گئی ہے کہ ہم دنیا میں اس طور پر زندگی گزاریں کہ مستقبل حال میں تبدیل ہو کر ہمارے لئے تکلیف کا موجب نہ بنے لیکن ایک نہ ختم ہونے والا زمانہ بھی ہے جو اس زندگی میں حال کی شکل اختیار نہیں کرتا اور وہ ہے اُخروی زندگی کا لامتناہی زمانہ۔وہ بھی مستقبل ہی ہے یہ زندگی اُس زندگی کا مقابلہ نہیں کر سکتی کیونکہ وہ دائمی ہے۔متقی لوگ اس بات پر بھی نظر رکھتے ہیں کہ وہ اس زندگی میں اُس مستقبل کو سنوارنے کی کوشش کرتے رہیں تا کہ جب وہ مرنے کے بعد اُس زندگی میں داخل ہوں تو وہاں انہیں تکلیف نہیں بلکہ راحت میتر آئے اور وہ زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق آرام سے گزرے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس طرح اور کس طریق پر ہم مستقبل کو سنوار سکتے ہیں؟ دوسری آیت میں اس کا جواب دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مستقبل کو سنوارنے کا طریق یہ ہے کہ اپنے اللہ کو یا درکھو۔جو قو میں یا نسلیں اللہ کو یاد نہیں رکھتیں ، اللہ تعالیٰ ایسے سامان کرتا ہے کہ وہ اپنے نفسوں