خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 123
خطبات ناصر جلد ششم ۱۲۳ خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۷۵ء کہ آپ کنارہ پر کھڑے ہیں اس لئے احتیاط برتیں۔چنانچہ میں نے اپنی غذا بڑی قابو میں رکھی ہوئی تھی۔اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہے مجھے بچپن سے میٹھے سے کوئی شغف نہیں اور کم خور بھی ہوں اتنا کم خور کہ ۱۹۶۷ء میں کراچی کے جن چوٹی کے ڈاکٹر صاحب نے سب سے پہلے شکر کو دیکھا اور ٹیسٹ کئے اُنہوں نے مجھے ایک گوشوارہ بنا کر دیا جس میں غذا کے متعلق احکام تھے یعنی یہ کھانا ہے اور یہ نہیں کھانا اتنا کھانا ہے وغیرہ۔مثلاً انہوں نے مجھے کہا کہ دو چھٹانک سے زیادہ آٹا دو پہر کے کھانے میں نہیں کھانا اور ایک چھٹانک سے زیادہ آثارات کے کھانے میں نہیں کھانا۔ہم نے کہا اگر پر ہیز کرنا ہے تو ٹھیک طرح سے پر ہیز کیا جائے۔میں نے ایک بزرگ کو بلا کر کہا اپنے سامنے تول کر آٹا گندھوائیں اور اس کی چپاتیاں پکوائیں۔اتفاقاً ہمارا باور چی بھی ساتھ ہی کراچی گیا ہوا تھا اس سے میں نے کہا تم میرے لئے جو بڑی پتلی سی چپاتی بناتے ہو ویسی چپاتیاں بناؤ۔تو جب ایک آدمی کی نگرانی میں دو چھٹانک آٹے کی چپاتیاں بن کر آئیں تو وہ چار چپاتیاں تھیں حالانکہ میرے معمول کی غذا دو چپاتیاں تھیں یعنی ایک چھٹانک آٹا۔تو پھر میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ مجھے کہیں اور سے غذا دیں آپ کا جو چارٹ ہے اس سے تو پہلے ہی میں کم کھا رہا ہوں اس کے علاوہ اُنہوں نے یہ بھی کہا پھل نہ کھائیں سوائے سیب کے اور ہفتہ میں ایک آدھ دفعہ کوئی اور بھی چیز تھی لیکن کہا آم نہیں کھانے ، انگور نہیں کھانے نیز ورزش کرنی ہے۔میں نے کہا ٹھیک ہے کچھ بھی نہیں کھاؤں گا جو کہو گے کھاؤں گا کیونکہ مجھے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔غرض کھانے میں احتیاط اور ورزش کے نتیجہ میں شکر کا نظام اپنی حدود کے اندر رہتا تھا لیکن جب میری بیماری لمبی ہو جائے اور میری ورزش بند ہو جائے تو اس وقت مجھے تکلیف ہو جاتی ہے۔اب اس دفعہ دراصل ۲۶ نومبر ۱۹۷۴ء سے بیماری شروع ہوئی ، درمیان میں جلسہ سالانہ پر اللہ تعالیٰ نے فضل فرما یا آپ لوگ جانتے ہیں سب گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کتنا فضل کرنے والا ہے۔۲۳؍ دسمبر کو میں چار پائی سے اُٹھا تھا اور اس وقت جلسہ سالانہ کے سارے کام کا بوجھ ، ملاقاتیں ، تقاریر ، جلسہ کا نظام اور پھر خاص طور پر دعائیں کرنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جلسہ کو کامیاب کرے۔ہمارے ملک کی فضا بھی کچھ ایسی ہی تھی احباب کو توجہ دلائی جاتی رہی کہ بہت دعائیں کرنی چاہئیں میرا تو فرض ہے میں تو بہر حال