خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 109
خطبات ناصر جلد ششم 1+9 خطبه جمعه ۲۸ مارچ ۱۹۷۵ء تربیت یافتہ صحابہ کے زمانہ میں غالب آیا تھا۔آج کی بشارت جو کل پوری ہو جاتی ہے، وہ ہمیں اس مقام پر کھڑا کر دیتی ہے کہ ہم علی وجہ البصیرت یہ عقیدہ رکھیں کہ جو چودہ سو سال پہلے بشارتیں دی گئیں تھیں وہ اب پوری ہوں گی کیونکہ ایسا ہی بتایا گیا ہے کہ یہ زمانہ ہے اُن کے پورے ہونے کا اور پھر انسان حیران ہوتا ہے کہ لوگ مہدی علیہ السلام کے مقام کو نہیں پہچانتے۔مہدی تو وہ پیارا وجود ہے جس کو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا جس کی علامات بتائیں، جس کے کام بتائے جس کے زمانہ میں اسلام کا غلبہ بتایا اور پھر ان چودہ صدیوں میں کوئی صدی ایسی نہیں گذری جس کے بیسیوں مقربین الہی کو اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں بتایا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شان کا ایک خادم پیدا ہونے والا ہے۔اب پھر دنیا میں ایک شوق پیدا ہو گیا ہے مہدی معہود کی تائید میں دلائل ظاہر کرنے کا۔بعض لوگوں نے جن کا جماعت سے تعلق نہیں، بے تحاشہ روپیہ خرچ کر کے بیسیوں ،سینکٹر وں شاید ہزاروں سکالرز اور صاحب علم محققین کو اس طرف متوجہ کیا کہ جو چھپی ہوئی کتا بیں ہیں اُن کو نکا لیں اور شائع کریں یا چھپی ہوئی کتابوں کے حوالے اپنی کتابوں میں دینا شروع کر دیں۔ابھی چند ہفتوں کی بات ہے ایک کتاب آئی ہے جس میں سے بہت سے حوالے ملے ہیں اُن میں سے ایک یہ حوالہ بھی ہے کہ ابن النبی المھدی کے زمانہ میں جھنڈوں کے رنگ سرخ ہو جائیں گے۔یہ کوئی معمولی خبر تو نہیں بڑی اہم خبر ہے۔پھر ہمیں مہدی علیہ السلام نے یہ خوشخبری دی کہ میں نے جو کچھ پایاوہ میرا اپنا نہیں ہے بلکہ مجھے جو بھی ملا ہے وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ملا ہے اور آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اور آپ کی اتباع کے ذریعہ سے اور آپ کی محبت میں فنا ہو کر اور آپ کی کامل اتباع کر کے اور آپ کی اطاعت کا جوا اپنی گردن پر رکھ کر مجھے جو ملا سو ملا اور جو آدمی اسی قسم کی عاشقانہ اور مستانہ محبت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کرے گا وہ اسی مقام کو اپنے اپنے مرتبہ کے لحاظ سے اور استعداد کے لحاظ سے پالے گا۔اب جو اصل نتیجہ میں آپ کے سامنے نکالنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمارا یہ دعویٰ کرنا کہ ہمیں